سپیس ایکس نے سٹارلنک سیٹلائٹ میں خرابی کی تصدیق کر دی

واشنگٹن ۔31مارچ (اے پی پی):امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس نےتصدیق کی ہے کہ اس کے سٹارلنک سیٹلائٹ کومدار میں خرابی کا سامنا ہوا، جس کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہو گیا اور خلائی ملبہ پیدا ہوا۔ شنہوا کے مطابق سٹارلنک سیٹلائٹ 34343 سے زمین سے تقریباً 560 کلومیٹر کی بلندی پر کام کے دوران رابطہ منقطع ہو گیا، یہ بات سٹارلنک کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے جاری بیان …

واشنگٹن ۔31مارچ (اے پی پی):امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس نےتصدیق کی ہے کہ اس کے سٹارلنک سیٹلائٹ کومدار میں خرابی کا سامنا ہوا، جس کے باعث اس سے رابطہ منقطع ہو گیا اور خلائی ملبہ پیدا ہوا۔ شنہوا کے مطابق سٹارلنک سیٹلائٹ 34343 سے زمین سے تقریباً 560 کلومیٹر کی بلندی پر کام کے دوران رابطہ منقطع ہو گیا، یہ بات سٹارلنک کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے جاری بیان میں بتائی گئی۔بیان کے مطابق ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس خرابی سے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن اور اس کے عملے کو کوئی نیا خطرہ لاحق نہیں، اور نہ ہی ناسا کے آئندہ آرٹیمس II مشن پر اس کے اثرات پڑیں گے۔

سپیس ایکس نے بیان میں کہا کہ وہ سیٹلائٹ اور اس سے پیدا ہونے والے ملبے کی نگرانی جاری رکھے گی اور اس حوالے سے ناسا اور امریکی سپیس فورس کے ساتھ تعاون کرے گی۔کمپنی کے مطابق اس واقعے سے پیر کو لانچ کیے گئے ٹرانسپورٹر-16 مشن کو بھی کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ اس مشن کے پے لوڈز کو سٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک سے اوپر یا نیچے مدار میں چھوڑا گیا تھا تاکہ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔دوسری جانب امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی لیو لیبز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے اتوار کو سٹارلنک 34343 سے متعلق ملبہ بننے کا واقعہ نوٹ کیا ہے، جس کی نوعیت دسمبر 2025 میں پیش آنے والے ایک اور سیٹلائٹ واقعے سے ملتی جلتی ہے۔ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلائی ماحول میں پیش آنے والی خرابیوں کی فوری اور درست تشخیص انتہائی ضروری ہے تاکہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

مزید خبریں