اقوام متحدہ کی خوراک کا ضیاع روکنے کے لئے فوری اقدامات کی اپیل

اقوام متحدہ ۔31مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع میں اضافہ ماحولیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔’’انٹرنیشنل ڈے آف زیرو ویسٹ ‘‘کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں روزانہ اتنی خوراک …

اقوام متحدہ ۔31مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع میں اضافہ ماحولیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔’’انٹرنیشنل ڈے آف زیرو ویسٹ ‘‘کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں روزانہ اتنی خوراک ضائع کر دی جاتی ہے جس سے ایک ارب افراد کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب تقریباً 9 فیصد آبادی بھوک کا شکار ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ "زیرو ویسٹ” کے ذریعے خوراک کو محفوظ کرنے کے نظام قائم کیے جائیں تاکہ انسانوں اور زمین دونوں کی بقا یقینی بنائی جا سکے۔

ان کے مطابق، صارفین، کاروباری اداروں، شہروں اور حکومتوں کو مل کر خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔اس موقع پراقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ خوراک کا ضیاع نہ صرف ماحولیاتی اور معاشی مسئلہ ہے بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز جیسے کمزور کولڈ چین، ناقص تقسیم کے نظام اور محدود پروسیسنگ صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ اسٹوریج اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے خوراک کے ضیاع کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ترقی پذیر ممالک کو مالی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام اور UN-Habitat کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک شہری کچرے کی سالانہ پیداوار 3.8 ارب ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جو ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ماہرین کے مطابق، خوراک کے ضیاع میں کمی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مدد دے گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی، بھوک میں کمی لائے گی اور عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کے نقصان سے بھی بچا سکتی ہے۔