وزارتِ توانائی نے مجوزہ ملٹی سلیب ٹو او یو ٹیرف نظام پر اہم صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل کر لیا، جس کا مقصد ٹیرف کی تشکیل اور اصلاحات کے عمل کو شفاف، جامع اور شراکتی نقطہ نظر کو فروغ دینا ہے۔
وزارتِ توانائی نے مجوزہ ملٹی سلیب ٹو او یو ٹیرف نظام پر اہم صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل کر لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وزارتِ توانائی نے مجوزہ ملٹی سلیب ٹو او یو ٹیرف نظام پر اہم صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ مکمل کر لیا، جس کا مقصد ٹیرف کی تشکیل اور اصلاحات کے عمل کو شفاف، جامع اور شراکتی نقطہ نظر کو فروغ دینا ہے۔ ان اجلاسوں میں ملک بھر سے صنعتی شعبے کے مختلف نمائندگان نے شرکت کی، جن میں ایف پی سی سی آئی (فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری)، اپٹما (آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن)، ایل سی سی آئی (لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)، کاٹی (کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری)، سائٹ (سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ) اور پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز کے نمائندگان کے علاوہ دیگر بڑے صنعتی صارفین اور میڈیا کے اراکین شامل تھے۔
مشاورتی عمل میں صنعتی اسٹیک ہولڈرز نے وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) اور پاور ڈویژن کی جانب سے صنعت کو اس نئے ٹیرف نظام کی تشکیل میں شامل کرنے کے اقدام کو سراہا اور اس پیش رفت کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں شواہد پر مبنی اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر مبنی پالیسی سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ تینوں اجلاسوں کے دوران شرکاء نے کھلے دل سے اپنے مشاہدات، آراء اور تجاویز پیش کیں، جو مجوزہ نظام کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ اہم نکات میں ٹیرف نظام کی مدت ،آپٹ ان کی ساخت اور مدت، صنعتی صارفین کے لیے فکسڑ چارجز فریم ورک کو آپٹ آئوٹ کرنے کے لئے موزوں مدت اور لچک، خاص طور پر میکسیمم ڈیمانڈ انڈیکیٹر (ایم ڈی آئی) پر مبنی مختلف صنعتی طبقات کے لیے ایم ڈی ائی کا مناسب اطلاق، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے متعلق مضمرات، خاص طور پر زیادہ مانگ والی صنعتوں کے لیے فیول چارجز پر غور کیا گیا۔
اسٹیل سیکٹر سے تعلق رکھنے والے نمائندگان نے زیادہ ایم ڈی آئی اور کم استعمال کی شرح کے باعث درپیش مسائل کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ ٹیرف ڈیزائن میں محتاط توازن یا شعبہ مخصوص حکمت عملی اپنائی جائے۔پاور ڈویژن نے تمام آراء کو تسلیم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹیرف نظام کو حتمی شکل دیتے وقت اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کا بغور جائزہ لے کر انہیں شامل کیا جائے گا۔ تمام اجلاسوں میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ مجوزہ نظام اختیاری (آپٹ اِن) ہے اور اس کا اطلاق لازمی نہیں ہوگا، جس سے صنعتی صارفین کو اپنی ضروریات اور لوڈ پروفائل کے مطابق اسے اختیار کرنے کی سہولت ملے گی۔ مشاورتی اجلاسوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ٹی او یو پر مبنی قیمتوں کے مؤثر نفاذ کے لیے اسمارٹ میٹرنگ انفراسٹرکچر نہایت اہم ہے، جو اس مجوزہ نظام کا بنیادی جزو ہے۔
ان اجلاسوں کی کامیاب تکمیل حکومت اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کی عکاس ہے، جس کا مشترکہ مقصد صنعتی مسابقت میں اضافہ، توانائی کے استعمال کے بہتر انداز اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے تمام شرکاء کا فعال شرکت اور قیمتی آراء دینے پر شکریہ ادا کیا، جو پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے ایک متوازن اور مستقبل بین ٹیرف فریم ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔








