واشنگٹن۔1اپریل (اے پی پی):کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں کنسلٹنٹ کارڈیک سرجن ڈاکٹرظہیر یوسف الھلیس کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق امریکی ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو اورلینز میں منعقدہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس کے دوران دنیا بھر کے معروف کارڈیک ماہرین کی موجودگی میں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ڈاکٹر ظہیر یوسف الھلیس …
سعودی کارڈیک سرجن کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا
واشنگٹن۔1اپریل (اے پی پی):کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں کنسلٹنٹ کارڈیک سرجن ڈاکٹرظہیر یوسف الھلیس کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2026 سے نوازا گیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق امریکی ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو اورلینز میں منعقدہ امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس کے دوران دنیا بھر کے معروف کارڈیک ماہرین کی موجودگی میں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ڈاکٹر ظہیر یوسف الھلیس کو یہ ایوارڈ کارڈیک سرجری کے شعبے میں طویل خدمات، سائنسی و تعلیمی کاوشوں اور مملکت سمیت عالمی سطح پر کارڈیک کیئر کے معیار کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرظہیر یوسف الھلیس کا پروفیشنل کیریئر 48 برس سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے مملکت اور بیرون ملک 25 ہزار سے زائد کارڈیک سرجریز کیں۔
انہوں نے مشرق وسطی میں پیدائشی امراض قلب کی پہلی رجسٹری قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ درجنوں نوجوان سرجنز کی تربیت ان کی زیر نگرانی ہوئی اور ایک جامع کارڈیک سینٹر کی ترقی میں حصہ لیا، جو سرجری، امراض قلب اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں کو یکجا کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انہوں نے 20 سےزیادہ ممالک میں 60 سے زیادہ فلاحی و تعلیمی سرجیکل مشنز کی قیادت کی۔ علاوہ ازیں ان کی تحقیقی خدمات میں 150 سے زائد سائنسی مقالوں کی اشاعت اور متعدد مستند طبی کتب کی تیاری میں شرکت شامل ہے۔ انہیں ورلڈ سوسائٹی برائے اطفال پیدائشی دل کی سرجری کا صدر بھی منتخب کیا گیا۔ وہ اس عہدے پر فائزہونے والے پہلے سعودی ہیں۔
تقریب کے دوران امریکن کالج آف کارڈیالوجی نے سعودی کارڈیک سرجن کی ان خدمات کو بھی اجاگر کیا گیا، جو انہوں نے دل کے والوز کی تبدیلی کی سرجری میں جدت کے لیے انجام دیں۔ ان میں ایک نمایاں تکنیک میں دل کے خراب والو کو مریض کے اپنے ہی جسم سے حاصل کردہ والو سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے خصوصا بچوں اور نوجوان مریضوں کو ایسا والو فراہم کرنے میں مدد کی جو ان کی قدرتی نشوونما کے ساتھ ہم آہنگ رہتا اور مستقل میڈیسن کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔









