برسلز ۔2اپریل (اے پی پی):نیٹو کے حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علیحدگی کی دھمکی کے بعد کی صورتحال پر غور شروع کر دیا۔ تاس نے امریکی اخبار پولیٹیکو کے حوالے سے بتایا کہ یورپی حکام میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ برطانیہ، سپین، فرانس اور دیگر ممالک کے خلاف امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے بیانات نیٹو کے اصولوں کی کلیدی خلاف ورزی ہے اور …
امریکی صدر کی دھمکیوں سے نیٹو کا ممکنہ سقوط، یورپی حکام کا بعد کی صورتحال بارے غور شروع
برسلز ۔2اپریل (اے پی پی):نیٹو کے حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علیحدگی کی دھمکی کے بعد کی صورتحال پر غور شروع کر دیا۔ تاس نے امریکی اخبار پولیٹیکو کے حوالے سے بتایا کہ یورپی حکام میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ برطانیہ، سپین، فرانس اور دیگر ممالک کے خلاف امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے بیانات نیٹو کے اصولوں کی کلیدی خلاف ورزی ہے اور ان کے نتیجے میں سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے مغربی بلاک کی طرف سے بنائے گئے امریکا ، کینیڈا اور یورپی ملکوں سمیت 32 ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد ٹوٹ رہا ہے ۔ یورپی حکام اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ امریکی صدر کی نیٹو چھوڑنے کی دھمکیوں سے کیسے نمٹا جائے اور اگر وہ اس پر عمل کرتے ہیں تو وہ کیا کریں گے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں شامل ہونے سے انکار پر نیٹو اتحادیوں پر مسلسل زبانی حملے کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نجی ملاقاتوں، کھانوں اور نیٹو ہیڈکوارٹر برسلز اور دیگر مقامات پر ملاقاتوں میں یورپی حکام اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ امریکی صدر کی نیٹو چھوڑنے کی دھمکیوں سے کیسے نمٹا جائے ۔ ایک یورپی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت نیٹو مفلوج ہے ، وہ ملاقاتیں بھی نہیں کر سکتے۔ یورپی یونین کے ایک اہلکار کے مطابق یہ بالکل واضح ہے کہ نیٹو پہلے ہی ٹوٹ رہا ہے اور یورپ کو فوری طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ نیٹو کے مکمل طور پر ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 24 وزرا ، اہم عہدیداروں اور سفارت کاروں کے انٹرویوز کے بعد سامنے آنے والا یہ اتفاق رائے کہ امریکی صدر کی دھمکیوں سے نیٹو کے وجود کو خطرات لاحق ہیں ، جنگ کے بعد کے عالمی نظام میں ایک بنیادی تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے ۔









