پاکستان کی شہد برآمدات سالانہ 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):پاکستان کی شہد کی برآمدات سالانہ تقریباً 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو بہتر شہد کی مکھیوں کی افزائش کے طریقوں اور اعلیٰ معیار کی اقسام کی پیداوار کے باعث ممکن ہوا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ہنی بی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایچ بی آر آئی) کے سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر محمد خالد رفیق نے کہا کہ ہم نے مسلسل تحقیق، کالونیوں میں …

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):پاکستان کی شہد کی برآمدات سالانہ تقریباً 15 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو بہتر شہد کی مکھیوں کی افزائش کے طریقوں اور اعلیٰ معیار کی اقسام کی پیداوار کے باعث ممکن ہوا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ہنی بی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایچ بی آر آئی) کے سینئر سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر محمد خالد رفیق نے کہا کہ ہم نے مسلسل تحقیق، کالونیوں میں اضافہ، بہتر کوئین بریڈنگ، کیڑوں کے تدارک اور کوالٹی اشورنس سسٹمز کے ذریعے ایک مسابقتی شہد کی صنعت کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔اس وقت پاکستان میں Apis mellifera (مغربی شہد کی مکھی) کی تقریباً 15 لاکھ کالونیاں موجود ہیں، جو سالانہ 25 ہزار سے 30 ہزار میٹرک ٹن شہد پیدا کرتی ہیں۔ اس میں سے 8 ہزار سے 10 ہزار میٹرک ٹن شہد برآمد کیا جاتا ہے، جس سے ہر سال تقریباً 15 ملین ڈالر زرِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ یہ برآمدات زیادہ تر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے خلیجی ممالک کو کی جاتی ہیں، جہاں سدری (بیری) شہد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان میں شہد کی صنعت کا آغاز 1979 میں ہوا جب پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے تحت نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں منظم شہد کی مکھیوں کی افزائش کا عمل شروع کیا گیا۔ اس سے قبل مقامی مکھیوں کی کم پیداوار کے باعث ملک شہد کی درآمدات پر انحصار کرتا تھا۔Apis mellifera کے تعارف، کالونیوں میں منظم اضافے اور تربیتی پروگرامز نے اس صنعت کی تیز رفتار ترقی کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر خالد کے مطابق “ایچ بی آر آئی نے جدید چھتہ مینجمنٹ، کوئین بریڈنگ سسٹمز، شہد کی جانچ کی سہولیات اور نقل مکانی پر مبنی مکھی پالنے کے ماڈلز متعارف کرائے، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں افراد کو تربیت فراہم کی گئی۔اس پیش رفت کے باوجود، شعبہ ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

جنگلات کی کٹائی، غیر یقینی موسمی حالات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پھولوں کے کھلنے کے ادوار کم ہو رہے ہیں، جس سے رس (نیکٹر) کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ شیشم، مالٹا، بیکھر، پلائی اور گرانڈا جیسے روایتی پودے کم مدت کے لیے کھل رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر شہد کی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بار بار آنے والے سیلاب مکھی پالنے والوں کو مہنگے نقل مکانی کے طریقے اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں، جس کے تحت گرمیوں کے دوران کالونیوں کو گلگت جیسے ٹھنڈے علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس سے لاگت میں اضافہ، پیداوار کے خطرات اور کالونیوں کے نقصان کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، اور شعبے پر اضافی مالی و عملی دباؤ پڑتا ہے۔آمدنی میں اضافے کے لیے سدری، اکیشیا اور سرسوں کے شہد جیسی ایک ہی پھول سے حاصل ہونے والی برانڈڈ اقسام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ قیمت حاصل کرتی ہیں۔ڈاکٹر خالد کے مطابق ایچ بی آر آئی نے رہائشی سکیموں، شہری لینڈ سکیپنگ اور شجرکاری مہمات میں شہد دوست پودوں کو شامل کرنے کی تجاویز بھی دی ہیں۔ مختلف ماحولیاتی علاقوں میں سدری اور اکیشیا کی شجرکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ خوراک کے ذرائع بحال ہوں اور پیداوار کا تسلسل برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ صلاحیت بڑھانے کے پروگرام ادارے کی ترجیحات میں شامل ہیں، جن کے تحت نئے اور تجربہ کار مکھی پالنے والوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ خواتین اور نوجوانوں کو بھی اس شعبے میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جس سے یہ شعبہ مزید جامع اور معاشی طور پر مؤثر بن رہا ہے۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔