جیفری ایپسٹین نے انیل امبانی کو امریکی معاملات میں رہنمائی دینے کےلئے خود کو وائٹ ہائوس کی اہم شخصیت ظاہر کیا

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ایک بااثر اندرونی شخصیت کے طور پر پیش کی جس نے 2017 میں بھارت-امریکہ دفاعی تعاون اور قومی سلامتی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے رہنمائی طلب کی ۔یہ انکشاف نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں مالی …

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے خود کو بھارتی کاروباری شخصیت انیل امبانی کے سامنے ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں ایک بااثر اندرونی شخصیت کے طور پر پیش کی جس نے 2017 میں بھارت-امریکہ دفاعی تعاون اور قومی سلامتی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے رہنمائی طلب کی ۔یہ انکشاف نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں مالی مشکلات کا شکار ہونے والے امبانی نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاملات کو سمجھنے کے لیے ایپسٹین سے اندرونی معلومات حاصل کرنے میں خاص دلچسپی دکھائی۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے ٹرمپ انتظامیہ میں تقرریوں اور خارجہ پالیسی سے متعلق معلومات امبانی کے ساتھ شیئر کیں۔مارچ 2017 میں امبانی نے دریافت کیا کہ آیا ڈیوڈ پیٹریاس کو بھارت میں امریکی سفیر مقرر کیا جائے گا۔ ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ معلوم کریں گے اور بعد میں بتایا کہ پیٹریاس اس عہدے کے لیے زیر غور نہیں ہیں۔ بعد ازاں نومبر 2017 میں یہ منصب کینتھ آئی جسٹر کو دیا گیا۔جولائی 2017 میں ایپسٹین نے امبانی کو بتایا کہ جان بولٹن ، لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر کی جگہ قومی سلامتی کے مشیر بنیں گے۔ اس نے کہا کہ میک ماسٹر زیادہ عرصہ اس عہدے پر نہیں رہیں گے اور بولٹن کی اگلی باری ہے ۔ تقریباً آٹھ ماہ بعد بولٹن واقعی اس عہدے پر فائز ہو گئے۔ایپسٹین نے امبانی کو ٹرمپ کے قریبی افراد جیسے اسٹیفن کے بینن اور تھامس جے براک سے متعارف کروانے کی پیشکش بھی کی۔ دوسری جانب امبانی نے خود کو نریندرا مودی کی حکومت سے قریبی تعلق رکھنے والا ظاہر کیا اور ایک موقع پر کہا کہ قیاد ت نے ایپسٹین سے جرید کشنر اور بینن سے ملاقاتوں کے انتظام میں مدد مانگی ہے۔پیغامات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین نے امبانی کو مشورہ دیا کہ بھارت-اسرائیل تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بہتر بنائے جائیں۔ اس دوران مودی کے دورۂ اسرائیل اور بھارت کی جانب سے تقریباً 2 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے بھی سامنے آئے۔انیل امبانی جو کہ مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کی دولت 2007 میں تقریباً 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2019 میں 1.7 ارب ڈالر رہ گئی۔ وہ 2019 تک ایپسٹین کے ساتھ رابطے میں رہے، جس دوران ایپسٹین نے بطور دوست ہمدردی اور مشورے بھی دیے۔ دونوں کی ملاقات 23 مئی 2019 کو نیویارک میں ہوئی، جو بھارت کے عام انتخابات کے نتائج کا دن تھا۔پیغامات میں سیاست اور مالی معاملات کے ساتھ ساتھ تفریح اور ڈیزرٹ جیسے مبہم حوالہ جات بھی موجود ہیں، تاہم ان کا مکمل سیاق و سباق واضح نہیں۔ایپسٹین نے ایک موقع پر نامناسب مذاق کرتے ہوئے کہا کہ ایک لمبی قد کی سویڈش سنہری بالوں والی خاتون کو سفیر بنایا جائے تاکہ دورہ مزید دلچسپ ہو جائے اور امبانی سے اداکاراؤں یا ماڈلز کے بارے میں پسند بھی پوچھی۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔