اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے معاملے پر حکومت سے تفصیلی ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ حکومت قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہی ہے جبکہ اس حوالے …
وفاقی آئینی عدالت، گلگت بلتستان مجوزہ قانون سازی کا ریکارڈ طلب، سماعت ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان سے متعلق مجوزہ قانون سازی کے معاملے پر حکومت سے تفصیلی ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ حکومت قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہی ہے جبکہ اس حوالے سے سینئر سیاستدانوں سے مشاورت کی جانی چاہیے۔ جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا معاملہ ہے جسے حکومت کو خود حل کرنا چاہیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ حکومت قانون سازی کی مجاز ہے تاہم سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اجازت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن سے متعلق قانون سازی موجود نہیں، جسے شامل کرنے کی تجویز ہے، جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی مدت پانچ سال مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ عدالت نے حکومت سے مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔








