توانائی مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے فعال رابطہ کاری، مؤثر نگرانی اور مستقل عملدرآمد ناگزیر ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

توانائی مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے فعال رابطہ کاری، مؤثر نگرانی اور مستقل عملدرآمد ناگزیر ہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ توانائی مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے فعال رابطہ کاری، مؤثر نگرانی اور مستقل عملدرآمد ناگزیر ہے، ایندھن کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں، ذمہ دارانہ صارف رویے کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بات پیرکویہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لئے قائم کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی،اجلاس میں قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی صورتحال اور مارکیٹ کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے، مارکیٹ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سپلائی چین کے تمام مراحل پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

کمیٹی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی مجموعی صورتحال، درآمدی منصوبوں اور ریفائنری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا۔کمیٹی کوبتایاگیاکہ کہ مجموعی طور پر سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے، ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن کی ضروریات کوپورا کرنے کے لئے کافی ہیں، پیٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کو پورا کرنے کے لئے مناسب ہے جبکہ خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کے لئے دستیاب ہیں جنہیں آنے والی کارگو کھیپوں اور طے شدہ درآمدات کی مدد حاصل ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کمیٹی کو بتایاگیا کہ آئندہ ہفتوں کے لئے درآمدی انتظامات کمرشل خریداری اور بین الحکومتی معاہدوں کے ذریعے بروقت جاری ہیں، پیداوار برقرار رہنے اور خام تیل کو مؤثر انداز میں ریفائن شدہ مصنوعات میں تبدیل کرنے کیلئے ریفائنریاں بہترین سطح پر کام کر رہی ہیں۔ کمیٹی نے اس امر کو بھی نوٹ کیا کہ قابل اعتماد توانائی کی فراہمی زراعت، کھاد سازی، ٹرانسپورٹ اور صنعت جیسے اہم شعبوں کی معاونت کے لئے نہایت اہم ہے اور یہ معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور قیمتوں کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

قیمتوں میں حالیہ تبدیلی کے تناظر میں کمیٹی نے سپلائی چین کے تمام مراحل پر مسلسل نگرانی برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ ذخیرہ اندوزی، قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیوں اور مصنوعات کی دستیابی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکا جا سکے۔ طلب کے رجحانات، خصوصاً مقامی سطح پر کھپت میں ہونے والے فرق کی قریبی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ سپلائی کا متوازن انتظام ممکن بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے غیر مجاز ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی اور ریگولیٹری فریم ورک کے اندر مارکیٹ میں بے ضابطگیوں کے تدارک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں گیس کی فراہمی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیاگیا جس میں سوئی سدرن اورسوئی نادرن کے ذخائر کی پوزیشن شامل تھی، گھریلو صارفین کے لئے گیس کی دستیابی کے انتظام اور گیس کی تقسیم کو گھریلوں اور بجلی کے شعبوں کے درمیان متوازن رکھنے کے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ارکان نے موسمی طلب اور ایل پی جی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے پیش نظر وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لئے متوازن اور ڈیٹا پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔کمیٹی نے اوگرا کی جانب سے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے نگرانی اور ڈیٹا پر مبنی نظام کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا جو ڈپو سے لے کر ریٹیل آؤٹ لیٹس تک ذخائر کی سطح، فروخت اور سپلائی کی صورتحال کو حقیقی وقت میں دیکھنے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ڈیش بورڈ فروخت، اسٹاک اور طلب میں اتار چڑھاؤ جیسے اہم اشاریوں کی نگرانی کے لئے مرکزی کام کرے گا جس سے سپلائی میں ممکنہ خلا کی بروقت نشاندہی اور معقول فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ملک بھر میں موجود 12 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس کے حجم کے پیش نظر ریٹیل آؤٹ لیٹس سے ڈیٹا رپورٹنگ تاحال توقعات سے کم ہے ،کمیٹی نے نظام کے مکمل فعال ہونے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس کے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

وزیر خزانہ نے ڈیٹا کے بروقت انضمام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کوفیصلہ سازی کے لئے ڈیش بورڈ کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی خاطر معلومات کی فوری اور درست فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اوگرا کو ہدایت دی گئی کہ ڈیٹا رپورٹنگ کے تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے، سپلائی چین میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرے، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے تاکہ نظام کا ہموار نفاذ ممکن بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں پاکستان اسٹیٹ آئل اپنی ریٹیل نیٹ ورک میں نگرانی کو مزید مؤثر بنائے گا اور ترجیحی بنیادوں پر رپورٹنگ کے دائرہ کار کو وسعت دے گا۔

عمل درآمد کو مضبوط بنانے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، ایف آئی اے اور پاکستان سٹیٹ آئل کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں اسلام آباد میں منتخب پی ایس او پٹرول پمپس پر تعینات کی جائیں گی تاکہ بروقت ڈیٹا اندراج، اسٹاک کی شفافیت میں بہتری اور آپریشنل قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے نظام کو ادارہ جاتی شکل دی جائے تاکہ نگرانی مضبوط ہو، احتساب میں اضافہ ہو اور ریٹیل نیٹ ورک میں رپورٹنگ کے طریقہ کار میں یکسانیت پیدا ہو۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ مارکیٹ کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے فعال رابطہ کاری، مؤثر نگرانی اور مستقل عمل درآمد ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایندھن کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں، جبکہ ذمہ دارانہ صارف رویے کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین (ورچوئل)، وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری (ورچوئل)، اور وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری (ورچوئل) کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر افسران نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔