اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کی جانب سے کی گئی انکوائری میں گوجر خان کے سابقہ زارا میڈیکل سنٹر سے وابستہ ڈاکٹر زاہد اور صغریٰ زاہد کے خلاف انسانی سمگلنگ اور فراڈ کے الزامات ثابت ہوگئے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان میاں بیوی نے 2022 میں گوجرانوالہ کے رہائشی محمد ایوب خان کو دھوکہ دیتے ہوئے وعدہ کیا …
ایف آئی اے انکوائری میں گوجر خان میڈیکل سنٹر سے وابستہ ڈاکٹر کے خلاف انسانی سمگلنگ اور فراڈ کے الزامات ثابت

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کی جانب سے کی گئی انکوائری میں گوجر خان کے سابقہ زارا میڈیکل سنٹر سے وابستہ ڈاکٹر زاہد اور صغریٰ زاہد کے خلاف انسانی سمگلنگ اور فراڈ کے الزامات ثابت ہوگئے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ملزمان میاں بیوی نے 2022 میں گوجرانوالہ کے رہائشی محمد ایوب خان کو دھوکہ دیتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے اس کی اہلیہ اور تین بچوں سمیت مزید 10 افراد کو پرتگال بھجوا کر وہاں ملازمت اور رہائش کا بندوبست کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ملزمان نے مختلف اوقات میں بینک ٹرانزیکشنز اور نقد رقم کی صورت میں مجموعی طور پر 13 کروڑ 26 لاکھ روپے وصول کیے۔
انکوائری کے دوران شکایت کنندہ محمد ایوب خان اور گواہان رضوان طفیل اور خورشید احمد کی موجودگی میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزمان نے رقم وصول کرنے کے باوجود نہ تو متاثرہ خاندان کو بیرون ملک بھجوایا اور نہ ہی وعدے کے مطابق کوئی سہولت فراہم کی جبکہ رقم بھی واپس نہیں کی گئی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزمان میاں بیوی گوجر خان، لاہور اور دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی فراڈ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔








