صدر مملکت ممنون حسین کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عوامل پر از سر نو غور کر کے دانش مندانہ حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ کشمیر، بھارت، افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ اور چین کی صورتحال براہ راست ہماری داخلی سلامتی کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں نیشنل …

اسلام آباد ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے خارجی عوامل پر از سر نو غور کر کے دانش مندانہ حکمت عملی تیار کی جائے کیونکہ کشمیر، بھارت، افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ اور چین کی صورتحال براہ راست ہماری داخلی سلامتی کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ورکشاپ میں اراکینِ پارلیمنٹ، اعلیٰ سول و فوجی حکام اور سول سوسائٹی کے افراد شریک تھے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا ءمیں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کئے۔ صدر مملکت نے ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے قوم نے جان و مال اور ادارہ جاتی سطحوں پر بہت نقصانات اٹھائے ہیں لیکن اس جنگ میں ہماری کامیابی بھی غیر معمولی ہے جس کے لئے ہمارے سول و ملٹری جانبازوںکے علاوہ سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں نے بھی بیش بہا قربانیاں دی ہیں جس پر یہ تمام افراد اور ادارے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔

Leave a Reply