پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر عوامی صحت کے فروغ کے لئے قریبی اشتراک جاری رکھے گا،ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ

وزیرِ مملکت برائے قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئر کے طور پر حکومتِ کرغزستان کی قیادت کو سراہا اور عوامی صحت کے شعبے میں علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے اس کی کاوشوں کی تعریف کی۔

اسلام آباد۔20اپریل (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے قومی صحت، ضوابط و ہم آہنگی ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئر کے طور پر حکومتِ کرغزستان کی قیادت کو سراہا اور عوامی صحت کے شعبے میں علاقائی تعاون کے فروغ کے لیے اس کی کاوشوں کی تعریف کی۔پیر کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے صحت کا 9واں اجلاس’’عوامی صحت اور نظم و نسق سے متعلق ریاستی پالیسی‘‘ کے موضوع پر بشکیک میں منعقد ہوا۔ انہوں نے ایس سی او سیکرٹریٹ کا بھی ایک مؤثر اور مستقبل پر مبنی اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت نے علاقائی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر عوامی صحت کے فروغ، ایس سی او پروگرام برائے تعاون در شعبہ صحت اور مشترکہ وبائی ردعمل حکمت عملیوں کے تحت قریبی اشتراک جاری رکھے گا۔وزیرِ مملکت نے پاکستان کے صحت کے پالیسی فریم ورک میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں علاج پر مبنی نظام سے ہٹ کر احتیاطی اور روک تھام پر مبنی صحت کے نظام کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی عالمی اہداف کے مطابق بنیادی صحت کی سہولیات کے فروغ اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حصول پر مرکوز ہے۔انہوں نے ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز، بالخصوص زیادہ شرحِ پیدائش، غذائی قلت اور غیر متعدی امراض کا ذکر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں قومی صحت و آبادی پالیسی (2035-2026) کا مسودہ تیار کیا ہے، جس کا مقصد بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا اور صحت کے مجموعی نتائج کو بہتر بنانا ہے۔ڈاکٹر بھرتھ نے ڈیجیٹل صحت کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی میڈیسن، موبائل ہیلتھ سلوشنز اور ڈیٹا پر مبنی نظام کو وسعت دے رہا ہے تاکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایس سی او ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔

علاقائی صحت کے تحفظ کے حوالے سے انہوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ عوامی صحت کے ہنگامی حالات اور قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی، وسائل کی شراکت اور جدت ناگزیر ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ ایس سی او ممالک، خصوصاً کرغزستان میں طبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جہاں اس وقت 7 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے طبی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔اپنے اختتامی کلمات میں ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے احتیاطی صحت کی پالیسیوں کے فروغ، بنیادی صحت کے نظام کی مضبوطی اور ایس سی او کے پلیٹ فارم کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ منصفانہ اور پائیدار صحت کے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے ایس سی او کے رکن ممالک کو 2027 میں ہونے والے اگلے وزرائے صحت اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت بھی دی۔