پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے برآمدی کارگو پر عائد کردہ اضافی ایڈہاک چارج کے معاملے کو مسلسل مذاکرات اور اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد کامیابی سے حل کر لیا۔ہفتہ کوپاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اگرچہ متعدد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسیز (جی ایچ اے) کی جانب سے اس طرح کے چارج پر غور کیا جا رہا تھا تاہم صرف ایک آپریٹر نے اسے عملی طور …
پی اے اے کی مداخلت، ایڈہاک کارگو چارج واپس، برآمدکنندگان کو ریفنڈ کا اعلان

مزید خبریں
کراچی۔25اپریل (اے پی پی):پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے برآمدی کارگو پر عائد کردہ اضافی ایڈہاک چارج کے معاملے کو مسلسل مذاکرات اور اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد کامیابی سے حل کر لیا۔ہفتہ کوپاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اگرچہ متعدد گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسیز (جی ایچ اے) کی جانب سے اس طرح کے چارج پر غور کیا جا رہا تھا تاہم صرف ایک آپریٹر نے اسے عملی طور پر نافذ کیا۔
متعلقہ جی ایچ اے کی جانب سے 50 روپے فی کلوگرام ($180فی ٹن) کا چارج عائد کیے جانے نے ملک بھر میں برآمدکنندگان اور فریٹ ایجنٹس کی جانب سے وسیع پیمانے پر احتجاج کو دعوت دی۔پی اے اے نے معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیا اور متعلقہ گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنسی کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے۔ طویل اور تعمیری گفت و شنید کے ذریعے، پی اے اے نے آپریٹر کو قائل کیا کہ یہ ایڈہاک چارج پی اے اے اور جی ایچ اے کے درمیان ہونے والے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے تاہم، جب تک یہ خلاف ورزی ثابت ہوئی اور آپریٹر نے چارج واپس لینے پر اتفاق کیا، تب تک کروڑوں روپے برآمدکنندگان سے وصول کیے جا چکے تھے۔مسلسل مذاکرات کے بعد، متعلقہ جی ایچ اے نے ایڈہاک چارج واپس لینے اور غیر قانونی طور پر وصول کی گئی رقم کی واپسی پررضامندی ظاہر کر دی۔
ریفنڈ کا عمل شروع ہو چکا ہے جس سے متاثرہ برآمدکنندگان اور فریٹ ایجنٹس کو بڑا ریلیف ملا ہے۔ وزیر اعظم آفس نے پوری صورتحال پر گہری نظر رکھی اور مذاکرات اور ریفنڈ میکانزم کی پیشرفت سے باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جاتا رہا۔اس معاملے نے ملک بھر کی کاروباری برادری میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے اس اضافی چارج کو برآمدات کے لیے "غیر قانونی اور نقصان دہ” قرار دیاجبکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے خبردار کیا تھا کہ یہ لیوی قومی معیشت پر روزانہ تقریباً 40 ملین روپے کا بوجھ ڈال رہی ہے۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) اور پاکستان انٹرنیشنل فریٹ فارورڈرز ایسوسی ایشن (پی آئی ایف ایف اے) نے بھی سنگین خدشات کا اظہار کیا تھا۔ان تجارتی تنظیموں نے ایئر کارگو ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (اے سی اے اے پی) کے ہمراہ پی اے اے سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ جائزے کے بعد، پی اے اے نے طے کیا کہ یہ لیوی اتھارٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے منافی تھی۔اگر یہ لیوی برقرار رہتی تو پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید نقصان پہنچتا، بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات مہنگی ہو جاتیں اور قومی معیشت کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا۔
یہ کامیاب حل برآمدی زرمبادلہ کو تحفظ فراہم کرتا ہے، قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت کرتا ہے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کو تقویت دیتا ہے۔پی اے اے تجارت کو فروغ دینے، برآمدکنندگان کی مسابقت کے تحفظ اور پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں پر شفاف اور لاگت کے حوالے سے موثر ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔








