سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی بھارتی ہٹ دھرمی ہے،خواجہ عمران نذیر

صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ 1960میں عالمی بنک کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی بھارتی ہٹ دھرمی ہے، سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، آبی تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کاباعث بن سکتا ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور …

لاہور۔27اپریل (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ 1960میں عالمی بنک کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی بھارتی ہٹ دھرمی ہے، سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، آبی تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کاباعث بن سکتا ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکے روز اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سند ھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے کہا کہ یہ معاہد ہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے متعلق ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور اس کی پاسداری دونوں ممالک پر لازم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 1960 میں عالمی بنک کی ثالثی سے طے پانے والے معاہدہ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان دریاوں کے پانی کے استعمال کا منصفانہ طریقہ کار طے کیا گیا تھا تا ہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ،معاہدہ کے تحت مشرقی دریا ستلج، بیاس اور راوی پر بھارت جبکہ مغربی در یا سندھ جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا اور کسی بھی فریق کو اسے یکطر فہ طور پرختم کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے ۔ پانی ایک بنیادی انسانی حق ہے اسے سیاسی دباو کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا اقدام پاکستان کی آبی سلامتی، غذائی پیداوار اور توانائی کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھائے گا اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کرے گا ۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بھارت کو معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔