صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کا سکھر بیراج کا دورہ ، ترقیاتی کام کا جائزہ لیا

صوبائی وزیر آبپاشی کا سکھر بیراج کا دورہ ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا

سکھر۔ 27 اپریل (اے پی پی):صوبائی وزیر آبپاشی کا سکھر بیراج کا دورہ ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا ۔ صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے سکھر بیراج کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران سے بریفنگ لی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جام خان شورو نے کہا کہ سکھر بیراج پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور سندھ کی 90 فیصد زرعی زمین کو پانی اسی بیراج سے فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے سکھر بیراج کی اپ گریڈیشن کا کام جاری ہے، جس کے تحت بیراج کے 60 دروازے تبدیل کیے جا رہے ہیں. صوبائی وزیر کے مطابق جون 2025 تک 17 دروازے تبدیل کیے جا چکے ہیں جبکہ جون 2026 تک 26 دروازے تبدیل کرنے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2026 تک سکھر بیراج کے تمام 44 مین گیٹس مکمل طور پر تبدیل کر دیے جائیں گے، جبکہ کینالوں کے پاکٹ گیٹس اور دیگر دروازوں کی تبدیلی کا کام آئندہ سال تک مکمل ہوگا.

جام خان شورو نے بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کافر ڈیم کو فول پروف بنایا گیا ہے، جبکہ اپ گریڈیشن کے بعد سکھر بیراج کی مدتِ حیات میں مزید 30 سال کا اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیراج کی مرمت اور بحالی پر 17 ارب روپے لاگت آ رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ارسا کی جانب سے ملک میں 27 فیصد پانی کی قلت کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کینال لائننگ اور ڈی سلٹنگ کا عمل جاری ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کسانوں کو کم پانی میں بہتر کاشتکاری کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔جام خان شورو نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ایک حقیقت ہیں اور ہمیں اپنے انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ کینالوں سے مٹی اٹھانے والے پرائیویٹ افراد یا اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔