شہر میں کم عمر بچوں میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر والدین اور شہریوں کا تشویش کا اظہار

شہر میں کم عمر بچوں میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر والدین اور شہریوں کا تشویش کا اظہار

راولپنڈی۔27اپریل (اے پی پی):شہر میں کم عمر بچوں میں منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر والدین اور شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں اور والدین کے درمیان مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں کم عمر بچوں میں سگریٹ، نسوار، الیکٹرک سگریٹ (ویپ)، چرس اور آئس جیسی مضر اشیاء کے استعمال میں بتدریج اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس نے والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف ان نشہ آور اشیاء کی آسان دستیابی بچوں کو اس جانب راغب کر رہی ہے جس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ والدین کے مطابق کم عمری میں نشے کی عادت بچوں کی جسمانی صحت، تعلیمی کارکردگی اور کردار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، اس لیے تعلیمی اداروں میں مؤثر نگرانی اور سخت چیکنگ کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض طلبہ خفیہ طور پر ویپ اور دیگر نشہ آور اشیاء تعلیمی اداروں میں لے آتے ہیں جس سے دیگر طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں اور یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ٹینچ بھاٹہ کے ایک رہائشی نے بتایا کہ دکاندار کم عمر بچوں کو سگریٹ، نسوار، الیکٹرک سگریٹ فروخت کرتے وقت کسی قسم کی احتیاط نہیں کرتے بلکہ منافع کے حصول کے لیے اس رجحان کو مزید فروغ دیتے ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ منشیات کی فراہمی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور تعلیمی اداروں کے اطراف خصوصی چیکنگ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے۔ والدین کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے سخت قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ مؤثر آگاہی مہم بھی ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور والدین کے درمیان قریبی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں کو منشیات جیسی سماجی برائی سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک صحت مند اور روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔