گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ملک میں زرعی شعبے کی جدید بنیاد پر ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کے نتیجے میں بنجر اور غیر آباد زمینیں سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں
گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت زرعی شعبے کی ترقی کا عمل جاری ، بنجر اور غیر آباد زمینیں سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت ملک میں زرعی شعبے کی جدید بنیاد پر ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کے نتیجے میں بنجر اور غیر آباد زمینیں سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں، زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستان زرعی خود کفالت اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔حکام کے مطابق گرین امپیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے بزنس مینجر محمد ابو بکر کے مطابق اس منصوبے کے تحت 1500 ایکڑ بنجر زمین کو جدید طریقوں سے قابلِ کاشت بنایا گیا ہے جہاں روڈگراس اور الفالفا جیسی چارہ جاتی فصلیں کامیابی سے اگائی جا رہی ہیں۔ ان فصلوں کا تقریباً 20 فیصد حصہ مقامی ڈیری فارمز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ 80 سے 90 فیصد پیداوار برآمد کی جا رہی ہے جو ملک کے زرِمبادلہ میں اضافے کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنٹرل پیوٹ اریگیشن سسٹم کے مؤثر استعمال سے پانی کی کھپت میں تقریباً 40 فیصد کمی لائی گئی ہے جبکہ روزانہ 150 ایکڑ سے زائد رقبہ سیراب کیا جا رہا ہے، یہ جدید آبپاشی نظام نہ صرف پانی کی بچت کو یقینی بناتا ہے بلکہ فصلوں کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے۔گرین امپیکس کے سپروائزر محمد مدثر کے مطابق جدید ویدر سٹیشنز کے استعمال سے موسمی حالات کا بروقت تجزیہ ممکن ہوا جس کی مدد سے فصلوں کی بوائی، آبپاشی اور کٹائی کے حوالے سے بہتر اور بروقت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
سی ای او گلزار احمد کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت گرین ایگری مال کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں کاشتکاروں کو جدید زرعی مشینری، سنٹرل پیوٹ سسٹمز اور دیگر ضروری سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں،اس منصوبے نے بنجر علاقوں کو زرعی و سرسبز خطوں میں تبدیل کر کے نئی مثال قائم کی ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعد احسن کے مطابق گرین پاکستان انیشیٹو نہ صرف بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنا رہا ہے بلکہ یہ منصوبہ ملکی معیشت، سماجی ترقی اور فوڈ سکیورٹی کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر اسی رفتار سے جدید زرعی اصلاحات جاری رہیں تو پاکستان نہ صرف زرعی شعبے میں خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایک مضبوط زرعی برآمد کنندہ کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔








