وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت سے نیپالی سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ بارے امکانات پر تبادلہ خیال کیا

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے بدھ کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی جس دوران ثقافت، ورثہ اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے امکانات بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں نیپال کی سفیر ریتا دھیتال نے بدھ کے روز ان کے دفتر میں ملاقات کی جس دوران ثقافت، ورثہ اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے امکانات بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اورنگزیب خان کھچی نے نیپالی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عوامی روابط کو سفارتی تعلقات کی بنیاد سمجھتا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے ثقافتی اداروں کے درمیان موسیقی، فنون، نوادرات اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیپال کے ساتھ ثقافتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی شراکت داریاں مشترکہ ورثے کے تحفظ اور اقوام کے درمیان باہمی فہم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کے شاندار بدھ مت ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مذہبی سیاحت کے فروغ کی وسیع تر پالیسی کے تحت بدھ تہذیب کو نمایاں کرنے کے لیے نئی کوششوں کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قیمتی بدھ مت نوادرات کا امین ہے جن میں معروف فاسٹنگ بدھا مجسمے بھی شامل ہیں ، حکومت اس تاریخی ورثے کے تحفظ اور ترویج کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے نیپالی سفیر کو محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر کے دورے کی دعوت بھی دی جو وزارت کے تحت کام کرنے والا اہم ادارہ بالخصوص بدھ مت ورثے سے متعلق نوادرات کا مرکز ہے۔ نیپال کی سفیر نے پاکستان اور نیپال کے درمیان دیرینہ تعلقات کو سراہا جو باہمی احترام، خیرسگالی اور تعاون پر مبنی ہیں۔انہوں نے تجارت، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات میں مسلسل پیش رفت کو اجاگر جبکہ علمی، ابلاغی، کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں میں تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی قیادت میں ثقافت، فنون، عجائب گھروں اور بدھ مت ثقافتی ورثے کے فروغ، تحفظ اور نگہداشت کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔سفیر نے دوطرفہ ثقافتی تعاون کے اہم سنگ میلوں کا بھی ذکر کیا جن میں مئی 1970ء میں طے پانے والا ثقافتی معاہدہ، کٹھمنڈو میں نیپال پاکستان فرینڈشپ اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کی سرگرمیاں اور 2018ء میں نیپال اکیڈمی اور پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے درمیان مفاہمتی یادداشت شامل ہے جس کے تحت ادبی تخلیقات جیسے دی وائسز آف نیپالی پوئٹس کا ترجمہ ممکن ہوا۔انہوں نے پاکستان کی ثقافتی سرگرمیوں میں نیپال کی فعال شرکت کا بھی ذکر کیا جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے آرٹسٹ ریزیڈنسی پروگرام اور کراچی میں منعقدہ ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025 شامل ہیں۔ نیپال کی سفیر نے وفاقی وزیر کو یکم مئی 2026ء بروز جمعہ ٹیکسلا میوزیم میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ویساک ڈے تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ یہ تقریب نیپال، تھائی لینڈ، سری لنکا، ویتنام اور میانمار کے سفارت خانوں کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے جس کا مقصد بدھ مت ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریب میں تھائی لینڈ اور سری لنکا سے معزز بھکشو دھرم راجیکا میں شرکت کریں گے جبکہ ٹیکسلا کیمپس میں امن کی گھنٹی بجانے، امن کی علامت کے طور پر سفید کبوتروں کی رہائی اور باغ میں پودے لگانے جیسی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیر برائے سیاحت، آثار قدیمہ و عجائب گھر مریم اورنگزیب نے بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔وفاقی وزیر نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے علاقائی ہم آہنگی اور مشترکہ ورثے کے فروغ کے لیے بین الاقوامی ثقافتی تعاون میں پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔نیپال کی سفیر نے پاکستان کی جانب سے بدھ مت ورثے کے فروغ اور تحفظ کے لیے کیے جانے والے مثبت اقدامات کو بھی سراہا۔دریں اثنا، وفاقی وزیر نے نیپال کے ثقافتی وفود کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستانی ثقافتی وفود بھی نیپال کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر، سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی اور نیپال کے ڈپٹی چیف آف مشن پروشوتم دھنگل بھی موجود تھے۔\