ویمن پارلیمنٹری کاکس کے زیراہتمام قومی اسمبلی کے جینڈر تجزیے کے سلسلے میں ورچوئل فوکس گروپ ڈسکشن کا انعقاد

ویمن پارلیمنٹری کاکس کے زیراہتمام قومی اسمبلی کے جینڈر تجزیے کے سلسلے میں ورچوئل فوکس گروپ ڈسکشن کا انعقاد

اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ویمن پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی) نے قومی اسمبلی کے جینڈر تجزیے کے سلسلے میں ایک ورچوئل فوکس گروپ ڈسکشن (ایف جی ڈی) کا انعقاد کیا۔یہ آن لائن اجلاس سیکرٹری ویمن پارلیمنٹری کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا ،جس میں اراکین پارلیمنٹ نے صنفی مساوات، شمولیتی شرکت اور پارلیمانی ادارہ جاتی طریقہ کار پر تعمیری گفتگو کی۔جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ فوکس گروپ ڈسکشن قومی اسمبلی کے جینڈر تجزیے کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد کے ادارہ جاتی ڈھانچے، پالیسیوں اور طریقہ کار کا صنفی تناظر میں جائزہ لینا ہے۔

اس اقدام کے تحت خواتین کی موثر شمولیت میں حائل رکاوٹوں اور سہولت فراہم کرنے والے عوامل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ شواہد پر مبنی سفارشات تیار کی جائیں گی تاکہ جینڈر ریسپانسیو گورننس کو فروغ دیا جا سکے۔اپنے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے شمولیتی پارلیمانی طریقہ کار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اجتماعی ذمہ داری ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ خواتین کی نمائندگی میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم ساختی اور ثقافتی چیلنجز اب بھی مکمل شرکت کی راہ میں رکاوٹ ہیں جس کے لیے مسلسل ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں شرکا نے مختلف جماعتوں کے نقطہ نظر سے خواتین کی قیادت میں نمائندگی، قانون سازی کے عمل میں جینڈر تناظر کا ادغام، کام کے ماحول اور سیاسی جماعتوں کے کردار جیسے اہم امور پر اظہار خیال کیا۔ اس گفتگو سے موجودہ خلا اور بہتری کے مواقع کے حوالے سے قیمتی آراء سامنے آئیں۔

قومی اسمبلی کا یہ جینڈر تجزیہ عالمی وعدوں سے ہم آہنگ ہے جن میں سی ای ڈی اے ڈبلیو (CEDAW)، بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) خصوصاً ہدف نمبر 5 (صنفی مساوات) شامل ہیں۔اس فوکس گروپ ڈسکشن کے نتائج ایک جامع جائزے کا حصہ بنیں گے اور قومی اسمبلی میں جینڈر ریسپانسیو قانون سازی، نگرانی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے قابل عمل سفارشات فراہم کریں گے

ویمن پارلیمنٹری کاکس نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک ایسے پارلیمانی ماحول کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا جو شمولیتی، نمائندہ اور جوابدہ ہو اور خواتین کو بااختیار بنانے اور حکمرانی میں مساوی شرکت کو یقینی بنائے۔اجلاس میں شریک اراکین قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شاہدہ رحمانی، شاہدہ بیگم، فرخ خان، نعیمہ کشور خان، رانا انصار اور منائل خان (سی ٹی اے) شامل تھیں۔