پی ایم اینڈ ڈی سی کی تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور اداروں کو طلبہ اور اساتذہ کی ذہنی صحت کے فروغ اور تحفظ کیلئے خصوصی ہدایات جاری
پی ایم اینڈ ڈی سی کی تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور اداروں کو طلبہ اور اساتذہ کی ذہنی صحت کے فروغ اور تحفظ کیلئے خصوصی ہدایات جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے تمام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں جن میں طلبہ اور اساتذہ کی ذہنی صحت کے فروغ اور تحفظ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔پی ایم اینڈ ڈی سی نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کے حل کے لیے پیشگی اقدامات انتہائی ضروری ہیں، کیونکہ میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کا تعلیمی ماحول نہایت سخت اور ذہنی دبائو کا باعث ہو سکتا ہے۔
صدر پی ایم اینڈ ڈی سی پرفیسر رضوان تاج کی ہدایات پر یہ اقدام طلبہ میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات اور شدید ذہنی دبائو کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ اس تناظر میں تمام اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدہ ذہنی صحت کی سکریننگ کا نظام نافذ کریں۔ باقاعدہ سکریننگ اور آسانی سے دستیاب اور منظم کونسلنگ سروسز نہ صرف تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنائیں گی بلکہ پیشہ ورانہ ترقی اور مستقبل کے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کی مجموعی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
یہ سکریننگ دو اہم مراحل پر کی جائے گی، اولاً داخلے کے وقت تاکہ پہلے سے موجود مسائل کی نشاندہی کی جا سکے اور بروقت مدد فراہم کی جا سکے، دوئم سالانہ بنیاد پر جس میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے ساتھ ساتھ فیکلٹی بھی شامل ہوگی تاکہ ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر کے دوران ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ معیاری اور مستند اسیسمنٹ ٹولز استعمال کریں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی نے مزید ہدایت کی ہے کہ ایسے طلبہ یا اساتذہ جنہیں اس سکریننگ کے دوران مزید جائزے یا مدد کی ضرورت ہو، انہیں فوری طور پر شعبہ نفسیات (ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری) میں بھیجا جائے تاکہ ان کا مکمل جائزہ، مناسب علاج اور مسلسل فالو اپ کیا جا سکے۔
مزید برآں پی ایم اینڈ ڈی سی کے معیار کے مطابق تمام اداروں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ایک مکمل فعال شعبہ نفسیات اور اس کے ساتھ ایک کونسلنگ سیکشن قائم کریں تاکہ ذہنی صحت کی سہولیات مستقل اور آسانی سے دستیاب رہیں۔اس یونٹ کو مناسب عملے اور ضروری سہولیات سے آراستہ ہونا چاہیے تاکہ رازداری کے ساتھ نفسیاتی مدد، رہنمائی اور بروقت مداخلت فراہم کی جا سکے۔ طلبہ اور اساتذہ میں ذہنی دبائو کی روک تھام اور اس کے موثر انتظام کی ذمہ داری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
باقاعدہ ذہنی صحت کی سکریننگ اور موثر کونسلنگ سروسز کا نفاذ تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے، پیشہ ورانہ ترقی میں مدد دینے اور مستقبل کے طبی ماہرین کی مجموعی فلاح و بہبود کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں اور فوری اور موثر اقدامات اٹھائیں۔ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر بغیر کسی تاخیر کے مکمل کیا جائے۔








