ادارہ خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے عملی کام کررہا ہے ، ڈاکٹر نجمہ افضل خان

صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ خواتین کو انکے حقوق انکے گھر کی دہلیز پر ملیں،کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنا جرم ہے، ادارہ اس حوالے سے خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے عملی کام کررہا ہے۔

راولپنڈی۔ 29 اپریل (اے پی پی):صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن ہے کہ خواتین کو انکے حقوق انکے گھر کی دہلیز پر ملیں،کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنا جرم ہے، ادارہ اس حوالے سے خواتین کو وراثتی حقوق دلانے کیلئے عملی کام کررہا ہے۔ صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے خاتون محتسب پنجاب کے عہدے پر تعینات کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن ہے کہ خواتین کو انکے حقوق انکے گھر کی دہلیز پر ملیں،خواتین کو ہراساں کرنا جرم ہے، ادارہ خواتین کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے،کسی خاتون کو وراثت سے محروم کرنا جرم ہے، ادارہ اس حوالے سے خواتین کو وراثتی حقوق دلانے میں عملی کام کررہا ہے۔ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ویژن کے مطابق خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے،صوبائی محتسب ادارہ 2013 میں بنا۔ اس ادارے سے خواتین کو فوری ریلیف فراہم کیا جاتا ہے،اس ادارے نے 1400کیسوں میں سے 1305 میں فیصلے کیے،مرتکب افراد کو سزائیں دی گئیں، خواتین کو ساز گار اور تحفظ والا ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ آسانی سے کام کرسکیں، مرد یا خاتون ہراسمنٹ کے خلاف ادارے سے رجوع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکومتی اداروں نے بہت تعاون کیا ہے،ہر ادارے میں ہراسمنٹ کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے،ہر کمیٹی تین افراد پر مشتمل ہوتی ہے، ہمارے افراد اداروں میں جاکر ان کمیٹیوں کی ٹریننگ کرتے ہیں،کوڈ آف کنڈکٹ کو جہاں خواتین کام کرتیں ہیں، وہاں آویزاں کرنا ضروری ہے،ہمارے ادارے کی ذمہ داری ہے وہ خواتین جہاں کام کرتیں ہیں ان کو چیک کریں، کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے، ہمارا ادارہ خواتین کو آگاہی فراہم کرنے کا کام کررہا ہے، ہراسمنٹ صرف ہمارا نہیں عالمی مسئلہ ہے ،ایسے مسئلوں کی روک تھام کرنی ہے، اگر کوئی واقعہ رونما ہو،شکایت کنندہ کے ساتھ کھڑے ہوں، حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہم سب کا فرض ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وارثت خواتین کے قانون پر عملدرآمد کرانا ضروری ہے،خواتین جن مسائل کا سامنا کررہی ہیں ان کو ان مسائل سے نکالنا ہے،ہم پوری نیک نیتی کے ساتھ کام کریں گے، وزیر اعلی کی خواتین حقوق پر زیرو ٹالیرنس پالیسی ہے، اس ادارے میں خواتین کے علاوہ مرد بھی ہراسمنٹ پر رجوع کرسکتے ہیں، خواتین کو کہوں گی کہ جھوٹا دعوی دائر نہ کریں، ہمارا ادارہ خواتین یا مردوں دونوں جانب سے کیس سن سکتا ہے، ادارہ ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے،کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، خواتین کو آگاہی نہ ہونے سے انکے ساتھ زیادتی کے کم کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی محتسب ادارہ خواتین کو ان کا کیس پیش کرنے پر قانونی معاونت فراہم کرتا ہے،صوبائی محتسب ہراسمنٹ کے خلاف کالجز یونیورسٹیز میں آگاہی فراہم کرتے ہیں،وویمن پولیس سٹیشن میں ہراسمنٹ کیسوں کے اندارج میں نمایاں کمی آئی ہے،خواتین کے خلاف انتشار پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے،خواتین جن اداروں میں کام کرتیں ہیں وہاں کوڈ آف کنڈکٹ اور انکوائری کمیٹیز کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

 

مزید خبریں