پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر غیر ضروری سیاست اور وکلا کو تقسیم کرنے کی کوششیں مناسب نہیں ہیں
پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، ججوں کے تبادلوں پر سیاست اور وکلا کو تقسیم کرنے کی کوششیں نا کام ہوں گی،پیر مسعود چشتی

مزید خبریں
لاہور۔30اپریل (اے پی پی):پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر غیر ضروری سیاست اور وکلا کو تقسیم کرنے کی کوششیں مناسب نہیں ہیں۔ وہ جمعرات کو پنجاب بار کونسل لاہور میں وکلا نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل پاکستان بار کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں کے معاملے پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار مشترکہ موقف سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت موجود ہے اور پارلیمنٹ کو آئینی ترامیم کا مکمل اختیار حاصل ہے جبکہ آئین میں ججوں کے تبادلوں سے متعلق واضح طریقہ کار موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض حلقے اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں، جو مناسب نہیں۔
وکلا برادری کو تقسیم کرنے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہونے دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کی صفوں میں اتحاد موجود ہے اور تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھائے جائیں گے۔پیر مسعود چشتی نے کہا کہ ماضی میں عدالتی فیصلوں کے ذریعے ججوں کو ہٹایا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی لاہور ہائی کورٹ کے متعدد ججوں کے معاملے پر بڑا مشہور مقدمہ سامنے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ اپنے اختیارات استعمال کرے تو اسے درست سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر پارلیمنٹ یا جوڈیشل کمیشن آئین کے تحت اختیارات استعمال کرے تو اعتراضات سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت قائم ادارہ ہے، جسے ججوں کی تقرری اور تبادلوں سے متعلق اختیارات حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی ہائی کورٹس میں بینچز اور پرنسپل سیٹیں موجود ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی بینچ میں فرائض انجام دیتے ہیں، اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی مختلف بینچ قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ججوں کے تبادلوں کو غیر معمولی معاملہ بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ مختلف شہروں میں ججوں کی تعیناتی عدالتی نظام کا حصہ ہے۔ پیر مسعود چشتی نے کہا کہ پاکستان بار کونسل پارلیمنٹ، آئین اور جمہوری اداروں پر مکمل یقین رکھتی ہے اور تمام معاملات آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل ہونے چاہییں۔








