وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان نے صحت اور فارماسیوٹیکل شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
پاکستان نے صحت اور فارماسیوٹیکل شعبے میں اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے،سید مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان نے صحت اور فارماسیوٹیکل شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سینٹرل ڈرگز لیبارٹری کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی پری کوالیفیکیشن حاصل ہونے سے ملکی ادویات کے معیار اور عالمی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہو گا۔جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سرٹیفکیشن کے حصول سے پاکستان کی فارماسیوٹیکل مصنوعات کی برآمدات کو نیا بوسٹ ملے گا۔ اب بیرونِ ملک پاکستانی ادویات کی ریگولیٹری سکروٹنی میں نمایاں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ایکسپورٹرز کو کم دستاویزی تقاضوں اور آسان تجارتی عمل کا سامنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ پیشرفت پاکستان کو عالمی ادارہ صحت کے لیول تھری ریگولیٹری سٹیٹس کے حصول کے قریب لے آئی ہے۔
اس وقت پاکستان ڈبلیو ایچ او لیول ٹو پر ہے، تاہم اگلے 6 سے 8 ماہ میں لیول تھری حاصل کرنے کی توقع ہے۔لیول تھری سٹیٹس ملنے کے بعد پاکستان کی ادویات کی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔ موجودہ وقت میں پاکستان تقریباً 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے، تاہم لیول تھری سرٹیفکیشن کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 150 ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت تقریباً 100 ممالک میں پاکستانی ادویات کی رسائی صرف ریگولیٹری تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ادویات کے معیار، مہارت اور پیداواری صلاحیت میں کسی قسم کی کمی نہیں، تاہم بین الاقوامی سرٹیفکیشن کی عدم موجودگی ایک بڑی رکاوٹ تھی، جو اب تیزی سے دور ہو رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی کابینہ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقامی ویکسین کی تیاری کےلئے قومی ویکسین پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی سے نہ صرف مقامی سطح پر ویکسین کی پیداوار کو فروغ ملے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک میں ویکسین کی تیاری کےلئے واضح پالیسی کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے اور پاکستان میں اس خلا کو اب باقاعدہ طور پر پر کر دیا گیا ہے۔یہ دونوں اقدامات پاکستان کے صحت کے نظام اور فارماسیوٹیکل صنعت کےلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں جو ملک کو عالمی منڈی میں ایک مضبوط مقام دلانے میں مدد دیں گے۔








