لاہور ہائی کورٹ نے آتشزدگی کے واقعات بارے درخواست پر روڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے

لاہور ہائی کورٹ نے عمارات میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات کے خلاف دائر درخواست پر روڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے14 مئی تک جواب طلب کر لیا۔

لاہور۔30اپریل (اے پی پی):لاہور ہائی کورٹ نے عمارات میں آتشزدگی کے بڑھتے واقعات کے خلاف دائر درخواست پر روڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے14 مئی تک جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کی ۔عدالت کے روبرو سی سی پی او، لیسکو، فیسکو، ریسکیو 1122 سمیت دیگر اداروں نے اپنے جوابات جمع کروا دیے سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ بلند عمارتوں کے لیے کوئی واضح ایس او پیز موجود نہیں، اور بزنس اتھارٹیز کسی کے ماتحت نہیں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں، اس کے بعد نئی درخواست کی اجازت نہیں ہوگی ۔

درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ بلڈنگ کوڈ اور فائر سیفٹی قوانین پر عمل نہ ہونے کے باعث آتشزدگی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، جبکہ ایمرجنسی ہیلی کاپٹر سروس نہ ہونے سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔عدالت کو بتایا گیا کہ شہر کی78 فیصد عمارتیں فائر سیفٹی کے لحاظ سے گریڈ ڈی میں ہیں،682 عمارتیں ہائی رسک جبکہ 13 ناقابلِ رہائش قرار دی جا چکی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 کی83 فیصد ایمبولینسز اپنی مدت پوری کر چکی ہیں، اور شہر کو فوری طور پر50 نئے فائر انجنز، لیڈر ٹرکس اور ہیلی کاپٹرز کی ضرورت ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت آتشزدگی کے واقعات کی انکوائری کا حکم دے، بلڈنگ کوڈ پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، اور عمارتوں میں متبادل ایگزٹ لازمی قرار دیا جائے۔ عدالت نے روڈا سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے14 مئی تک جواب طلب کر لیا۔