ملتان، فارمرز ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے 15 مئی تک کی سفارشات جاری کر دیں

ملتان، فارمرز ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے 15 مئی تک کی سفارشات جاری کر دیں

ملتان۔ 04 مئی (اے پی پی):سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سی سی آر آئی )ملتان کی فارمرز ایڈوائزری کمیٹی نے کپاس کے کاشتکاروں کے لیے 15 مئی تک کی سفارشات جاری کر دیں ۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز یہاں سی سی آر آئی فارمرزٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا پانچواں اجلاس ڈائریکٹرصباحت حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں اگیتی ومو سمی کپاس کی کامیاب کاشت و نگہداشت کے حوالے سے کاشتکاروں کے لیےآئندہ پندرہ روزکے لیےجامع سفار شا ت پیش کی گئیں، جن میں بتایاگیا کہ ایسے کاشتکار جن کی فصل دو ماہ یا اس سے زائد عمر کی ہو چکی ہے اور اس پر پھول گڈی لگنا شروع ہو گئی ہے،ایسے میں کاشتکار کھادوں کا استعمال کرنا شروع کردیں،ایسی فصل میں ایک بوری یوریا فی ایکڑ کے حساب سے دیں اور جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لئے مربوط طریقہ انسداد اختیار کریں۔ کاشتکار سات سے 10 دن کے وقفہ سے فصل کو پانی لگائیں،ٹرپل جین کپا س کی اگیتی اقسام کی کا شت کی صورت میں سفارش کردہ گلائیفوسیٹ استعمال کریں۔

دوران اجلاس بتایا گیا کہ اگر کہیں پر لشکری سنڈ ی کا حملہ ٹکڑیوں کی صورت میں ملنے کی اطلاعات ہیں ،کپاس کے پتے چھلنی نما نظر آ رہے ہیں تو اس صورت میں کاشتکار متاثرہ پودوں اور ارد گرد 20 لیٹر پانی کی ٹینکی میں 40 ملی لٹر لیوفیوران کا سپرے کریں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت مجموعی طور پر کپا س کی صورتحال تسلی بخش ہے،کپا س کے کاشتکار حتی الامکان پہلا سپرے تاخیر سے کریں،سپرے اسی صورت میں کریں جب فصل سٹریس میں ہو ۔ مزید بتایا گیا کہ جنہوں نے ابھی کپاس کاشت کرنی ہے تو وہ بجائی جلد از جلد مکمل کرلیں ،تاخیر ہرگز نہ کریں،زمین کی تیاری کے لئے لیزرلینڈ لیولر کا استعمال کریں۔

سخت زمین کی صورت میں چیزل پلو چلانا مفید ہے تاکہ جڑیں گہرائی تک پھیل سکیں۔کپا س کی بجائی سے پہلے پینڈی میتھالین بحساب1200ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں یا پھر بجائی کے فوراً بعد24گھنٹے کے اندر اندر ایس مٹیلا کلور بحساب800ملی لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے استعمال کریں۔ بیج ہمیشہ مستند اداروں سے لیں اور صرف منظورشدہ اقسام کاشت کریں۔پودے سے پودے کا فاصلہ نو انچ رکھیں اور کپاس کی کاشت ہمیشہ موسمی حالات کو دیکھ کرممکن بنائیں۔کاشتکار کپاس کی کاشت ایسی جگہوں پر ہرگز نہ کریں جہاں بھنڈی یا بینگن کی فصلیں پہلے سے موجود ہوں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کاشتکار گندم کی کٹائی کے بعد ناڑ کو آگ نہ لگائیں بلکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کے لئے ناڑ کو زمین میں دبا دیں ۔ اگر کپاس 25 تا 30 دن کی ہو چکی ہے تو کاشتکار فصل کی چھدرائی مکمل کریں اور چھدرائی کے بعد اس میں ایک بوری ڈی اے پی یا ایک بوری این پی ڈالیں۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کاشتکار ر س چوسنے والے کیڑوں خصوصاً سفید مکھی سے بچاؤ کے لیے پیلے چپکنے والے پھندے 10 عدد فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔

کپاس کی فصل پر ڈوڈیاں لگنے کی صورت میں گلابی سنڈی کے حملوں سے بچاؤ اور فصل کی مؤثر مینجمنٹ کے لیے 10 عدد سیکس فیرامون ٹریپس فی ایکڑ لگائیں جبکہ مانیٹر نگ کے لیے پانچ ایکڑ میں ایک فیرامون ٹریپ نصب کیا جائے۔ فصل کو ابتدائی 40 دن تک رس چوسنے والے کیڑ وں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج کو امیڈاکلوپرڈ اور ٹیبوکونازول کے مکسچر (10 ملی لیٹر فی کلو بیج) سے سیڈ ٹریٹمنٹ کرنا ضروری ہے۔اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ساجد محمود، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹر محمد احمد، ڈاکٹر رابعہ سعید، محمد اعظم، اور سائنٹفک آفیسرز جنید احمد ڈاہا و حفاظ محمد عمران نے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ اجلاس 16مئی کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔