ورک پلیس ہراسگی کیس،فوسپاہ نے سزا بڑھا کر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا

ورک پلیس ہراسگی کیس،فوسپاہ نے سزا بڑھا کر ملازم کو نوکری سے برطرف کر دیا

اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسگی فوسپاہ نے ورک پلیس ہراسگی کے ایک اہم مقدمے میں اپیل مسترد کرتے ہوئے ملزم کی سزا جبری ریٹائرمنٹ سے بڑھا کر فوری برطرفی میں تبدیل کر دی ہے۔

ترجمان کے مطابق مقدمے کا آغاز ایک سرکاری ادارے کی 16 خواتین ملازمین کی شکایات سے ہوا، جنہوں نے بار بار ہراسگی، ناپسندیدہ جسمانی رابطے اور خوف زدہ ماحول کی نشاندہی کی تھی۔

محکمانہ انکوائری میں الزامات درست قرار پائے اور ابتدائی طور پر جبری ریٹائرمنٹ کی سزا تجویز کی گئی ۔اپیل کی سماعت کے دوران فوسپاہ نے مکمل ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے انکوائری کو شفاف اور قانون کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ ملزم کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا تھا۔

فورم کو کسی بے ضابطگی یا قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی نہیں ملی۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ اپیل کنندہ نے ایک خاتون کے ساتھ جسمانی تعامل کا اعتراف کیا، تاہم اسے غیر ارادی قرار دینا قابل قبول نہیں کیونکہ ہراسگی کا تعین نیت کے بجائے متاثرہ فرد پر پڑنے والے اثرات سے کیا جاتا ہے۔

متعدد متاثرہ خواتین کی ہم آہنگ شہادتوں نے مسلسل نامناسب رویے کو ثابت کیا۔فوسپاہ نے یہ بھی قرار دیا کہ ملزم اپنے رویے کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا اور اسے انسانی فطرت سے جوڑنا پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہے۔

فیصلے کے مطابق اس طرز عمل نے خواتین ملازمین کے لیے خوف زدہ اور غیر محفوظ ماحول پیدا کیا۔فورم نے اپنے فیصلے میں مناسب عورت کے معیار کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ہراسگی کے تعین میں متاثرہ فریق کے تجربات اور احساسات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ سماجی و صنفی طاقت کے عدم توازن کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

معاملے کی سنگینی اور تسلسل کو دیکھتے ہوئے فوسپاہ نے قرار دیا کہ جبری ریٹائرمنٹ ناکافی سزا تھی، لہٰذا اپیلی اختیار استعمال کرتے ہوئے سزا بڑھا کر برطرفی کر دی گئی اور متعلقہ محکمہ کو فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

فیصلے کو ورک پلیس پر ہراسگی کے خلاف سخت پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ثابت شدہ اور مسلسل ہراسگی کے مرتکب افراد کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔