پاکستانی عدلیہ کا اعلیٰ سطحی وفد 3 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ

پاکستانی عدلیہ کا اعلیٰ سطحی وفد 3 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ

اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدلیہ کا اعلیٰ سطحی وفد3 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ کے شہر استنبول روانہ ہو گیا ۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق وفد زیادہ تر ضلعی عدلیہ کے ججز پر مشتمل ہے۔ یہ دورہ 8 مئی تک جاری رہے گا اور اسے ترکیہ کی آئینی عدالت کی دعوت پر ترتیب دیا گیا ہے۔یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کی اعلیٰ عدالتوں کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت عدالتی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد عدالتی صلاحیتوں میں اضافہ، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بہترین طریقہ کار کا تبادلہ ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی پر تشکیل دیئے گئے اس وفد میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر، چیف کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس علی بیگ اور مختلف ہائی کورٹس کی سفارش پر منتخب 8ضلعی ججز شامل ہیں،جن میں مستحسن احمد منہاس (اوکاڑہ/دیپالپور)، سہیل انجم (گوجرانوالہ)، تصور علی اور فریحہ صنوبر (سندھ ہائی کورٹ)، خضر حیات اور صنم خالد (پشاور ہائی کورٹ)، محمد اشرف بازئی اور عصمت اللہ یوسفزئی (بلوچستان ہائی کورٹ) شامل ہیں۔

دورے کے دوران وفد کو ترکیہ کی آئینی عدالت کے نظام، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈھانچے، انفرادی درخواستوں کے طریقہ کار، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور عدالتی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق بریفنگز دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں کے دورے اور انٹرایکٹو سیشنز بھی پروگرام کا حصہ ہیں جن کا مقصد تقابلی عدالتی نظام اور کیس مینجمنٹ کے جدید طریقوں سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔

یہ دورہ نہ صرف عدالتی افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور جدید، موثر اور عوام دوست نظام انصاف کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوگا جو عالمی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔