سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان لینڈ ریونیو ٹریبونل کے دائرہ اختیار اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 221 کے تحت غلطیوں کی درستی سے متعلق اہم مقدمے میں اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔
سپریم کورٹ نے ان لینڈ ریونیو ٹریبونل کے اختیارات سے متعلق کیس میں اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان لینڈ ریونیو ٹریبونل کے دائرہ اختیار اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 221 کے تحت غلطیوں کی درستی سے متعلق اہم مقدمے میں اپیلیں سماعت کیلئے منظور کر لیں۔جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے میسرز غلام رسول اینڈ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے دائر سول پٹیشنز کی سماعت کی۔عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے 24 اکتوبر 2025ء کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں اٹھائے گئے قانونی نکات مزید غور طلب ہیں، اس لیے اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کی جاتی ہیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار کمپنی کی جانب سے میاں عاشق حسین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور چوہدری ممتاز الحسن ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ محکمہ ان لینڈ ریونیو کی جانب سے سرفراز احمد چیمہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کا 22 جون 2015ء کا اصل فیصلہ، ہائی کورٹ کے 28 اپریل 2016ء کے فیصلے میں ضم ہو چکا تھا، اس لیے ٹریبونل بعد ازاں سیکشن 221 کے تحت تصحیح کی درخواست سننے کا اختیار نہیں رکھتا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹریبونل کے فل بینچ نے صرف ایک قانونی نکتے، یعنی انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ ون کی شق 126 ایف کے تحت ٹیکس چھوٹ کے معاملے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ دیگر نکات متعلقہ بینچز کیلئے محفوظ رکھے گئے تھے۔ بعد ازاں دائر درخواست پر ٹریبونل نے 28 ستمبر 2017ء کو ورکرز ویلفیئر فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی وصولی ختم کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں اسیسمنٹ کو قانون کے مطابق بنایا اور حسابی غلطیوں کی بھی تصحیح کی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں آبزرویشن دی کہ بادی النظر میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا کسی ایک قانونی نکتے پر جزوی فیصلہ پورے مقدمے کے انضمام کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں اور کیا غیر طے شدہ نکات میں واضح غلطیوں کی درستی ٹریبونل کے اختیار میں آتی ہے۔عدالت نے تین اہم قانونی سوالات طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ دیکھا جائے گا آیا ہائی کورٹ نے ٹریبونل کے اختیارات سے متعلق قانون کی درست تشریح کی، آیا ورکرز ویلفیئر فنڈ اور حسابی غلطیوں کی تصحیح سیکشن 221 کے تحت ’’ریکٹیفکیشن آف مسٹیک اپیرنٹ آن دی ریکارڈ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے اور آیا نظریہ انضمام کا اطلاق ایسے نکات پر بھی ہو سکتا ہے جن پر پہلے مرحلے میں فیصلہ ہی نہیں ہوا تھا۔سپریم کورٹ نے پیپر بکس تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت چار ماہ بعد تین رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔








