پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کے 2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کے 2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔7مئی (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس میں شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت ہوا جس میں پی اے سی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ، اجلاس میں وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کے 2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ ایک آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی کے رکن معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ اداروں کو بجٹ سازی میں اپنی ضروریات کے تحت گرانٹس لینی چاہئیں ، ضمنی گرانٹس کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ شازیہ مری نے کہا کہ بجٹ سازی پر اسی لئے سوال اٹھتے ہیں ۔ وزارت ہائو سنگ و تعمیرات کے سیکرٹری نے بتایا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب پاک پی ڈبلیو ڈی کا ادارہ موجود تھا ، رقم سپریم انسٹی ٹیوشنز پر خرچ کرناہماری ذمہ داری ہے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ جہاں بہتری کی گنجائش ہے وہاں اقدامات نظر آنے چاہئیں ۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ آڈٹ نے اضافی گرانٹ کا معاملہ یہاں بطور اعتراض نہیں رکھا بلکہ یہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھنا قواعد کا تقاضا ہے ۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی کے منصوبوں میں تین سے پانچ سال تک کی تاخیر سے 9 ارب سے زائد کی ریکوری نہیں ہوئی ۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے کہا کہ ایف جی ایچ اے اور پی ایچ اے کے 2017ء سے شروع ہونے والا ہر منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا ، عدالتی چارہ جوئی اور لاگت میں اضافے جیسی مشکلات کا ان منصوبوں کو سامنا ہے ، دو منصوبے بند کر کے نئے ٹھیکے دیے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سارے تو نہیں زیادہ تر منصوبوں کو آن ٹریک کر دیں گے ، کورونا کی وجہ سے بھی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا ۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ زمین کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہے ، جو لوگ 2017ء میں پیسے جمع کر چکے ہیں اور 2026ء تک انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ان کی رقوم واپس ہونی چاہیئں ۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے ارکان کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زمین کی قیمتوں میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے ، ہم کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کر رہے ، ایف جی ای ایچ اے کو حکومت کی طرف سے کوئی رقم نہیں ملتی ،یہ تمام رقوم ممبرز کی طرف سے ہوتی ہیں ، لوگوں کو ان کی رقوم منافع سمیت واپس کرنے کی رولز اجازت نہیں دیتے ۔

شازیہ مری نے کہا کہ وزیر کی سکیم’’اپنا گھر‘‘ کون سا ادارہ شروع کرے گا ، سیکرٹری نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کا ادارہ ایک ناکام ادارہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر آدمی کو کووڈ، مہنگائی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے نے متاثر کیا صرف ہائوسنگ کا ادارہ متاثر نہیں ہوا ، ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر اعظم کے علم میں کیوں نہیں لایا گیا ۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ ’’اپنا گھر‘‘ سکیم وزارت ہائوسنگ کی تحت ہی آتی ہے مگر یہ گھر ہم نے نہیں بنانے ، بینکوں نے رقم دینی ہے اور پرائیویٹ اداروں نے گھر بنانے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ کے ادارے کی ری سٹرکچرنگ ہونی چاہئے ، منصوبوں پر کام اس لئے رکے کیونکہ کنٹریکرز نے لاک ڈائون اور کاسٹ بڑھنے کی وجہ سے کام کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی رپورٹ بورڈ کے سامنے پیش ہوئی تھی ۔ اجلاس کی صدر نشین شاہدہ اختر علی نے ہدایت کی کہ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے ان کی ریلیف ملنا چاہیے۔

مزید خبریں