ڈائریکٹر اطلاعات آری ڈاکٹر آصف علی کے مطابق کپاس کے کاشتکار ترجیحاً15 مئی تک کاشت مکمل کر لیں اور کاشت سے قبل بیج کو محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات کے مطابق کپاس کی منظور شدہ بی ٹی اقسام استعمال کریں۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکار کم از کم 10 فیصد رقبہ پر محکمہ زراعت کی سفارش کردہ نان بی ٹی اقسام کی کاشت بھی کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی …
کپاس کے کاشتکار ترجیحاً 15 مئی تک کاشت مکمل کر لیں، ڈائریکٹر زرعی اطلاعات آری

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 08 مئی (اے پی پی):ڈائریکٹر اطلاعات آری ڈاکٹر آصف علی کے مطابق کپاس کے کاشتکار ترجیحاً15 مئی تک کاشت مکمل کر لیں اور کاشت سے قبل بیج کو محکمہ زراعت پنجاب کی سفارشات کے مطابق کپاس کی منظور شدہ بی ٹی اقسام استعمال کریں۔انہوں نے بتایا کہ کاشتکار کم از کم 10 فیصد رقبہ پر محکمہ زراعت کی سفارش کردہ نان بی ٹی اقسام کی کاشت بھی کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت نہ پیدا ہو سکے۔کپاس کی کاشت کیلئے سرٹیفائیڈ اور ٹیگ والا بیج استعمال کریں اور بیج کسی مستند ڈیلر سے خریدیں ۔ اگر بیج کا اُگاؤ 75 فیصد سے زیادہ ہو تو بُر اترا ہوا بیج6 کلو گرام اور بُر دار بیج8 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔بوائی سے قبل بیج کومناسب کیڑے مار زہر ضرور لگائیں جس سے فصل ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں خاص طور پر سفید مکھی کے حملہ سے بچی رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت ترجیحاً پٹریوں پر کریں۔جن علاقوں میں پانی کی کمی ہو وہاں پٹریاں بنانے کے بعد ہاتھ سے چوپا لگائیں جبکہ پانی والے علاقوں میں ڈرل کی مدد سے کاشت کریں اور قطاروں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں۔ کپاس کے کاشتکار ماہ مئی کے دوران کاشتہ فصل کے لیے پودوں کی تعداد 23 ہزار فی ایکڑ رکھیں تاہم کاشت اور قسم کے اعتبار سے پودوں کی فی ایکڑ تعداد اور پلانٹنگ جیومیٹری میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر آصف علی نے مزید کہا ہے کہ اگر کاشت ڈرل سے کرنی ہو تو قطاروں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں اور جب فصل کا قد ڈیڑھ سے دو فٹ ہو جائے تو پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا کر پٹریاں بنا دیں۔پٹریوں پر کاشتہ فصل میں جڑی بوٹیوں کا انسداد آسان، کھادوں کا استعمال بہتر اور بارشوں کے نقصان سے بھی بچت ہوتی ہے
P:sfr/X








