نئے علاقائی و عالمی حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے جامع اقتصادی و تجارتی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی، سیف الرحمان

وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی نہ صرف پاکستان کے عالمی کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس سے ملک کے لیے توانائی، تجارت اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

لاہور۔10مئی (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی نہ صرف پاکستان کے عالمی کردار کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس سے ملک کے لیے توانائی، تجارت اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔اتوار کو یہاں صنعتکاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ابھرتے ہوئے علاقائی و عالمی حالات سے فائدہ اٹھانے کے لیے جامع اقتصادی اور تجارتی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ، علاقائی رابطوں میں بہتری اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطی میں دیرپا امن کی صورت میں توانائی تعاون،سرحدی تجارت اور صنعتی توسیع کے منصوبے مزید آگے بڑھ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے سستی توانائی اور خام مال کی بہتر دستیابی سے پاکستانی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی آئے گی جس سے برآمدات کو بھی فروغ ملے گا۔سیف الرحمان نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نے عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کیا ہے اور اسے امن و مذاکرات کے ایک موثر اور قابل اعتماد داعی کے طور پر نمایاں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی استحکام عالمی تیل کی سپلائی،تجارتی راستوں اور مالیاتی منڈیوں پر منفی اثرات کے خدشات کو کم کرے گا،جس کے اثرات بالواسطہ طور پر پاکستان کی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوں گے۔