پشاور، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں: خیبر پختونخوا میں چاول کی پیداوار کو خطرہ

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں دیگر فصلوں کی طرح چاول کی پیداوار بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ خیبر پختونخوا میں گندم کی کٹائی کے بعد کسان ایک بار پھر اپنی زمینیں چاول کی کاشت کےلیے تیار کر رہے ہیں لیکن گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث اس …

پشاور۔ 10 مئی (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث خیبر پختونخوا میں دیگر فصلوں کی طرح چاول کی پیداوار بھی خطرات سے دوچار ہے ۔ خیبر پختونخوا میں گندم کی کٹائی کے بعد کسان ایک بار پھر اپنی زمینیں چاول کی کاشت کےلیے تیار کر رہے ہیں لیکن گزشتہ سال اپریل سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث اس موسم گرما میں ان کی امیدوں پر غیر یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ضلع صوابی کے گاؤں مرغز کے ترقی پسند کسان زبیر علی ٹریکٹر کے ذریعے اپنے کھیتوں کو بڑی احتیاط سے ہموار کر رہے ہیں جو اپنے پانچ ایکڑ رقبے پر چاول کی فصل کی آبیاری کےلیے دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پورا گاؤں بڑی حد تک دریائے سندھ پر بنے تربیلا ڈیم سے نکلنے والے نہری پانی پر منحصر ہے۔ اگر پانی کا بہاؤ کم ہوا تو صوابی میں چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ہزاروں غریب کسانوں کے علاوہ، دیہی علاقوں کی خواتین کو فصلوں کی پیداوار میں کمی کی صورت میں سب سے پہلے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ گھریلو غذائی تحفظ براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ زبیر اور خیبر پختونخوا کے ہزاروں دیگر کسانوں کےلیے پانی محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ یہ ان کے خاندانوں، زراعت اور مویشیوں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ بہتے ہوئے دریائے سندھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زبیر نے کہا کہ چاول کی کاشت کا مکمل انحصار پانی کی مستقل اور بلاتعطل فراہمی پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دریا کے بہاؤ میں کمی آئی تو چاول کی پیداوار بری طرح متاثر ہوگی۔ ہزاروں کسان خاندان اپنی روزی روٹی کےلیے اس پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

معاہدے کی کسی بھی طویل معطلی یا مسلسل خلاف ورزی ہمارے مال اور فصلوں کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے خدشات بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈال دیا گیا ہے جس سے خیبر پختونخوا کے کسانوں، ماہرینِ ماحولیات اور قانونی ماہرین میں پاکستان میں زراعت، مویشی پالنے، شہد کی مکھیوں کے پالنے اور غذائی تحفظ کے مستقبل کے حوالے سے خوف پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی بینک کے تعاون سے 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو دہائیوں کی سیاسی کشیدگی اور جنگوں کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے پائیدار معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے پانیوں کی تقسیم اور انتظام کو کنٹرول کرتا ہے جو خطے میں زراعت، پینے کے پانی، پن بجلی اور صنعت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ محکمہ زرعی تحقیق خیبر پختونخوا کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ چاول کی کاشت کو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی لاگت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باعث پانی کی غیر یقینی صورتحال نے بالخصوص چاول اور تربوز کے کاشتکاروں میں خوف کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔

انہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور خبردار کیا کہ مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی طویل خلل سے پانی پر منحصر فصلوں، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور پنجاب کے صوبوں میں چاول، آم، خربوزے اور تربوز پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر رؤف نے کہا کہ پانی دنیا بھر میں انسانوں اور زراعت کی زندگی ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 7.5 ملین ٹن چاول پیدا کرتا ہے اور دنیا کے بڑے چاول پیدا کرنے والے ممالک میں 10 ویں نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی کے پانی میں کسی بھی قسم کی کمی چاول کی پیداوار اور اس کی برآمدات کو شدید متاثر کر سکتی ہے اور خبردار کیا کہ اس کے منفی نتائج سرحدوں سے باہر تک پھیلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس پھلوں کے باغات، ماہی گیری، لائیو سٹاک، شہد کی مکھیوں کے پالنے، جنگلی حیات اور یہاں تک کہ چاول کی برآمدات کو سہارا دیتا ہے۔

پانی کی دستیابی میں رکاوٹیں غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، غربت میں اضافہ کر سکتی ہیں اور کاشتکاری اور متعلقہ صنعتوں سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ڈاکٹر رؤف نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو لاکھوں لوگوں کو بھوک اور معاشی بدحالی کی طرف دھکیلنے کے مترادف قرار دیا جو انسانی حقوق کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر رؤف نے بھارت کی جانب سے دریاؤں کے بہاؤ کو روکنے کے انسانی مضمرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ سابق کنزرویٹر آف فارسٹس توحید الحق نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی محض ایک سیاسی ہتھیار نہیں ہے بلکہ یہ انسانی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ کوئی بھی ایسا عمل جو سویلین آبادی کے لیے پانی کی دستیابی کو خطرے میں ڈالے، انسانی بحران پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان میں زراعت قومی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتی ہے۔

خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے دیہی عوام کی معیشت خاص طور پر کمزور ہے کیونکہ لاکھوں لوگ براہ راست سندھ طاس سے منسلک آبپاشی کے نظام پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پانی کے مربوط انتظام میں مداخلت خطے کے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی کم دستیابی ہمالیہ میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ کو تیز کر سکتی ہے، قحط کی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، دیہی علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور کر سکتی ہے اور پہلے سے پسماندہ علاقوں میں غربت کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ قانونی ماہرین نے بھی معاہدے کی معطلی کے مضمرات پر سوال اٹھائے ہیں۔

ایڈووکیٹ ملک اشفاق نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جان بوجھ کر سویلین آبادی کو ضروری وسائل سے محروم کریں۔ بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات عالمی بینک کی ضمانتوں اور بین الاقوامی عدالتِ ثالثی کے فیصلوں کے خلاف ہیں۔سیاسی مبصرین نے خبردار کیا کہ پانی پر بڑھتے ہوئے تنازعات دونوں ایٹمی مسلح پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور ایک اور جنگ، خاص طور پر پانی کے مسئلے پر، پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ ملک اشفاق نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا کیونکہ دونوں ممالک سمجھتے تھے کہ پانی کو سیاسی محاذ آرائی سے دور رہنا چاہیے۔

اس اصول کو کمزور کرنا علاقائی امن اور انسانی سلامتی کے لیے خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ صوابی کے زبیر علی جیسے کسان پانی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان چاول کی پنیری تیار کرتے ہوئے بے چین ہیں۔ زبیر علی کہتے ہیں کہ ہم سادہ کسان ہیں۔ ہم سیاست نہیں جانتے، لیکن ہم ایک چیز جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر نہ کوئی فصل ہے، نہ کوئی آمدنی اور نہ ہی ہمارے بچوں کا کوئی مستقبل ہے۔ جیسے جیسے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، چاول کے کاشتکار اور ماہرین عالمی بینک اور عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ معاہدے کے تحفظ اور سندھ طاس پر انحصار کرنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کی بلاتعطل رسائی کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کریں۔