حکومت صنعتی ترقی، برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزیر جام کمال خان
حکومت صنعتی ترقی، برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے، وفاقی وزیر جام کمال خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔11مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ حکومت صنعتی ترقی، برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جبکہ پالیسی سازی کو صنعتی شعبے کی عملی ضروریات اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ رکھا جائے گا۔انہوں نے یہ بات نیشنل سٹیل کمپلیکس لمیٹڈ کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں صنعتی مسابقت، ٹیرف اسٹرکچر، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ اور اسٹیل و انجینئرنگ شعبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے وزیر تجارت کو خام مال، انٹرمیڈیٹ مصنوعات اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈز) میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر نافذ موجودہ ڈیوٹی اسٹرکچر سے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا۔ وفد نے بتایا کہ ٹیرف ایریا میں خام مال درآمد کرنے والی صنعتوں کو درآمدی مرحلے پر کسٹم ڈیوٹی ادا کرنا پڑتی ہے جبکہ ای پی زیڈز میں پراسیسنگ یا ویلیو ایڈیشن کے بعد یہی مصنوعات دوبارہ ٹیرف ایریا میں آنے پر اضافی ڈیوٹیز کا سامنا کرتی ہیں۔
وفد کے مطابق موجودہ نظام صنعتی مصنوعات پر دوہرے ٹیکس کے مترادف ہے جس سے مشیننگ، لائننگ، کوٹنگ، فیبریکیشن اور دیگر ویلیو ایڈڈ صنعتی سرگرمیوں سے وابستہ صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وفد نے تجویز دی کہ ڈیوٹیز کا اطلاق تیار شدہ مصنوعات کی مجموعی مالیت کے بجائے صرف ای پی زیڈ میں پیدا ہونے والی اضافی ویلیو پر کیا جائے۔
ملاقات کے دوران شرکاء نے کسٹمز ویلیوایشن، پراسیس شدہ مصنوعات کی درجہ بندی اور صنعتی پراسیسنگ کے دوران ویلیو ایڈیشن کے تعین سے متعلق تکنیکی پیچیدگیوں پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ این ٹی سی ٹیرف سے متعلق امور پر تکنیکی اور مشاورتی معاونت فراہم کرنے والا ادارہ ہے جبکہ کسٹمز ویلیوایشن، صنعتی لاگت اور ضابطہ جاتی نفاذ جیسے معاملات متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔وفد نے وزیر تجارت کو طویل المدتی صنعتی منصوبوں کو درپیش مسائل، بڑھتی توانائی لاگت، تبدیل ہوتے ٹیرف اسٹرکچر اور موجودہ معاشی حالات کے باعث صنعتوں پر بڑھتے مالی دباؤ سے بھی آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گی تاکہ ایسے قابل عمل اور شفاف طریقہ کار وضع کیے جا سکیں جو صنعتی ترقی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ای پی زیڈ اے، کسٹمز حکام، ٹیرف ماہرین اور صنعتی نمائندوں کے ساتھ مشاورتی عمل جاری رکھا جائے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ملاقات میں صنعتی تیاری، مشینری کی خریداری، کنٹریکٹرز کے باہمی تعاون اور ملک میں صنعتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ اور توسیع کے لیے درکار ادارہ جاتی سہولت کاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








