اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ باغبان حضرات موسم گرما میں پھلدار پودوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیں۔
باغبان موسم گرما میں پھلدار پودوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ ۔ 14 مئی (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ باغبان حضرات موسم گرما میں پھلدار پودوں کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دیں۔ انہوں نےجمعرات کو باغبانوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گرمی اور خشکی سے جھلس کر پھل کا چھلکا پھٹ جاتا ہے جس سے پھل کی خاصیت متاثر ہوتی ہے اور باغبانوں کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھل بننے سے اس کے پکنے تک ایک لمبا عرصہ درکار ہے اور اس لمبے عرصہ میں پھلوں کو موسم گرما کی شدت سے بھی گزرنا پڑتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ زیادہ درجہ حرارت کے مضر اثرات سے پودوں کو بچانے کے لئے حفاظتی اقدات کیے جائیں، باغبان پھلدار پودوں کو گرمی سے بچانے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں تو پودوں کی بہتر دیکھ بھال سے زیادہ پیداوار کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ گرمی کی وجہ سے آم کے پودوں کے پتوں کے مسام بند ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ضیائی تالیف کا عمل صحیح طور پر نہیں ہوتا اور پودوں میں خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے، گرمی کی شدت کی وجہ سے پتے زرد ہو جاتے ہیں اور ان میں سبز مادہ نہ ہونے کی وجہ سے پتے نشاستہ یعنی کاربو ہائیڈریٹس نہیں بنا سکتے جس سے پودوں پر لگے ہوئے پھل کی نشوونما بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت گرمی پھل کے شدید کیرے کا باعث بنتی ہے اور پھل کا بیشتر حصہ مئی اور جون میں گر جاتا ہے اور پھل کا بہت کم حصہ پختگی تک درخت پر رہتا ہے اس طرح مجموعی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گرمی کی وجہ سے زیادہ نقصان آم کے علاوہ لیموں، مالٹا اور گریپ فروٹ پر بھی ہوتا ہے، کمزور اور چھوٹے پودے یا ایسے پودے جن کو پانی کم ملتا ہو، گرمی سےشدید متاثر ہوتے ہیں، پودوں کو گرمی سے بچانے کےلئے جنوب مغربی حصے کی طرف جنتر کی باڑ لگائی جائے، ملچنگ کرنے سے زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھا جا سکتا ہے اور اس طرح سے زمین میں سے پانی کا ضیاع بہت کم ہوتا ہے، ملچنگ زمین کے درجہ حرارت کو زیادہ نہیں ہونے دیتی، پھل کے کیرے کی شدت میں کمی ہو جاتی ہے اور زمین میں نامیاتی مادہ کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔








