پاکستان اورعالمی بینک اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے اورجامع اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے قریبی تعاون جاری رکھیں گے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی عالمی بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد سے گفتگو
پاکستان اورعالمی بینک اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے اورجامع اقتصادی ترقی کے فروغ کیلئے قریبی تعاون جاری رکھیں گے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی عالمی بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے حوالہ سے عالمی بینک کے مسلسل اور تعمیری تعاون کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اورعالمی بینک اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے آئندہ بھی قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔انہوں نے یہ بات پیرکویہاں وزارت خزانہ میں عالمی بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹربولورماآمگابازرکررہی تھیں۔ وزیر خزانہ نے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کے سلسلے میں عالمی بینک کے مسلسل تعاون اور شراکت داری کو سراہا۔ انہوں نے اہم اصلاحاتی شعبوں میں عالمی بینک کی معاونت کو قابل قدر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی اقتصادی ترجیحات اور اصلاحاتی ایجنڈے پر موثر عملدرآمد کے لیے قریبی رابطہ، تکنیکی تعاون اور باہمی ہم آہنگی نہایت اہم ہے۔
اجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری اصلاحات کے مختلف اقدامات اور تکنیکی معاونت کے پروگراموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جن میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اصلاحات، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، قرضہ جات کے انتظام، اور نجی شعبے کی ترقی سے متعلق اقدامات شامل تھے، اس کے علاوہ مختلف اصلاحاتی منصوبوں، تکنیکی معاونت کے پروگراموں، ان کے نفاذ کے اوقات، رابطہ کاری کے طریقہ کار اور عملی انتظامات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی معاونت کے پروگراموں کو اصلاحاتی اہداف کے مطابق موثر، خصوصی نوعیت کا حامل اور نتائج پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اعلیٰ معیار کی بین الاقوامی مہارت، عملی نفاذ میں معاونت، اور علم و تجربے کی منتقلی کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ سرکاری اداروں کی استعداد کار کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی بنیادوں پر پیچیدہ اصلاحاتی اقدامات کے موثر نفاذ کے لیے حکومت کے اندر مستقل اور پائیدار مہارت پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے ۔ ملاقات میں ایف بی آر کی جاری اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کو افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے آٹومیشن، ڈیجیٹلائزیشن، طریقہ کار میں سادگی اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام میں ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ حکومت ٹیکس انتظامیہ کی وسیع تر اصلاحات اور ادارہ جاتی جدیدکاری کے ایجنڈے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔عالمی بینک کے وفد نے وسط مدتی ریونیو حکمت عملی ، ٹیکس پالیسی آفس اور ایف بی آر کی اصلاحاتی سرگرمیوں کے حوالے سے جاری تکنیکی معاونت پر ترین پیش رفت سے آگاہ کیا۔
فریقین نے اصلاحات پر عملدرآمد کو تیز کرنے، ادارہ جاتی رابطہ مزید مضبوط بنانے اور اصلاحاتی اقدامات کو وسیع تر مالیاتی اور گورننس اہداف سے ہم آہنگ رکھنے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ اصلاحات کو اس انداز میں نافذ کیا جائے جو شفافیت،موثریت اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت میں اضافے کا باعث بنے۔ اجلاس میں پائیدار اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے لیے وسیع تر ساختی اصلاحات پر بھی گفتگو کی گئی۔ زیر بحث موضوعات میں ریگولیٹری اصلاحات، تجارتی سہولت کاری، برآمدی مسابقت، کریڈٹ مارکیٹس تک رسائی اورکیپٹل مارکیٹ کی ترقی شامل تھے۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، ریگولیٹری رکاوٹیں کم کرنا اور مالیاتی شعبے کی گہرائی میں اضافہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ حکومت مقامی قرضہ اور سرمایہ مارکیٹس کو مزید گہرا اور فعال بنانے، بینک فنانسنگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنے اور مارکیٹ پر مبنی مالیاتی ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس ضمن میں قرضہ مارکیٹ کی ترقی، سرمایہ کاروں سے روابط اور پاکستان کی سرمایہ کاری کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے لیبر مارکیٹ اصلاحات، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں کی ترقی، بیرون ملک روزگار کے مواقع، افرادی قوت کی مسابقتی صلاحیت اور سرکاری شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق جاری تحقیقی و تجزیاتی کام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہارتوں کی ترقی کے نظام کو بدلتی ہوئی مارکیٹ ضروریات سے ہم آہنگ کرنا، لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹمز کو بہتر بنانا اور موجودہ اصلاحاتی و ادارہ جاتی مطالعات سے استفادہ کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی زیادہ موثر، عملی اور نتائج پر مبنی ہو۔ عالمی بینک کے وفد مین لیڈاکانومسٹ ٹوبیاس حق،ٹیم لیڈگروتھ اینڈجابز اینڈاکانومسٹ اینا توم،رفیع خان سینئیرفنانشل سیکٹرسپیشلسٹ، آئی ایف سی کنٹری آفیسر سحراعتزاز اور ریجنل منیجر شبیہ علی محب شامل تھے۔








