اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):کارانداز پاکستان نے پہلے آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج کے کامیاب شرکاءمیں سے ایک،فنیکٹ کے ساتھ شراکت قائم کی ہے تاکہ ادائیگی کے ایسے آف لائن حل کی فراہمی میں مدد کی جا سکے جو کم یا بغیر انٹرنیٹ کنکٹیویٹی والے ماحول میں بھی کام کر سکیں۔پیر کو جاری بیان کے مطابق پاکستان جس طرح ایک زیادہ ڈیجیٹائزڈ معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، وقفہ وقفہ …
کارانداز اور فِنیکٹ کے درمیان کنیکٹویٹی سے بڑھ کر ادائیگیوں کیلئے اشتراک

مزید خبریں
اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):کارانداز پاکستان نے پہلے آف لائن پیمنٹس انوویشن چیلنج کے کامیاب شرکاءمیں سے ایک،فنیکٹ کے ساتھ شراکت قائم کی ہے تاکہ ادائیگی کے ایسے آف لائن حل کی فراہمی میں مدد کی جا سکے جو کم یا بغیر انٹرنیٹ کنکٹیویٹی والے ماحول میں بھی کام کر سکیں۔پیر کو جاری بیان کے مطابق پاکستان جس طرح ایک زیادہ ڈیجیٹائزڈ معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، وقفہ وقفہ سے منقطع ہونے والا انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
یہ چیلنج خاص طور پر چھوٹے کاروباری اداروں اور دیہی، نیز دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے صارفین کے علاوہ شہروں میں بھی اُن مقامات کے لئے زیادہ اہم ہے جہاں انٹرنیٹ کی رسائی اکثر ناقابلِ بھروسا ہوتی ہے۔اس تعاون کے ذریعے فنیکٹ ’(راست ایکو سسٹم) ‘سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آف لائن ادائیگی کے حل کی فراہمی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس شراکت کا مقصد ایسے تاجروں اور کمیونٹیز کے لئے محفوظ، بڑے پیمانے پر قابلِ توسیع اور مقامی طور پر موزوں ادائیگی کے اختیارات فراہم کرنا ہے جہاں نیٹ ورک کے مسائل ڈیجیٹل مالیاتی رسائی کو محدود کر رہے ہیں۔فنیکٹ جوراست کیو آر ساؤنڈ باکس کی فراہمی میں مہارت رکھنے والا ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا ایک سہولت کار ادارہ ہے، اس وقت پاکستان کے 20 سے زائد شہروں میں لین دین کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
یہ باہمی تعاون Tier 2 اور Tier 3 کی مارکیٹوں میں تاجروں کو نیٹ ورک میں شامل کرنے اور ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کی قبولیت کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص الحسن نے کہا کہ نقدی کے بغیر معیشت کی طرف پاکستان کی منتقلی لازمی طور پر یہاں کے عوام اور مارکیٹوں کے زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھ کر ہونا چاہئے۔ فنیکٹ کے ساتھ اس شراکت کے ذریعے، کارانداز ایسی عملی جدت طرازی کی معاونت کر رہا ہے جو ’راست ایکو سسٹم‘ کو مضبوط بناتی ہے اور پسماندہ مارکیٹوں تک ڈیجیٹل ذرائع سے محفوظ اور قابلِ بھروسا ادائیگی کے حل فراہم کرتی ہے، ان مارکیٹوں میں چھوٹے کاشتکار، چھوٹے تاجر اور وہ دیہی کمیونیٹیز شامل ہیں جو پاکستان کی ہمہ گیر ڈیجیٹل معیشت کے لئے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فنیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہنواز محمود نے کہا کہ کارانداز کے ساتھ یہ شراکت پورے پاکستان میں ڈیجیٹل ذرائع سے قابلِ بھروسا ادائیگی کے حل کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔راست کیو آر کی فراہمی میں اپنے عملی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئےہمارا مقصد ان تاجروں اور کمیونیٹیز کے لئے سادہ اور عملی ادائیگی کے نظام لانا ہے جو اب بھی نیٹ ورک کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہماری توجہ ایک ایسے ڈیجیٹل مالیاتی منظرنامے کی تشکیل میں مدد کرنا ہے جو مقام یا جگہ کی پرواہ کئے بغیر ہر ایک کے لئے کارآمد ہو۔یہ اقدام کارانداز کی مالی شمولیت میں حائل عملی رکاوٹوں کو دور کرنے اور ایسی جدت طرازیوں کی معاونت پر مسلسل توجہ کی عکاسی کرتا ہے جس سے پورے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں تک رسائی کو مزید آسان بنایا جا سکے۔








