اقتصادی ترقی کیلئے شراکت داروں سے مشاورت پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایف پی سی سی آئی کے وفد سے گفتگو

اقتصادی ترقی کیلئے شراکت داروں سے مشاورت پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی ایف پی سی سی آئی کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے کے حکومتی عزم کااعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اقتصادی ترقی، برآمدات، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ضمن میں شراکت داروں سے مشاورت پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے گی۔ انہوں نے یہ بات پیرکویہاں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے وفد سے ملاقات میں کہی جس کی قیادت ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کررہے تھےگ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے ایف پی سی سی آئی کے کردار کو کاروباری برادری کی نمائندہ تنظیم کے طور پر سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کو عملی، ترقی پر مبنی اور کاروبار، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے معاون بنانے کے لیے صنعت سے وابستہ شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے حکومت کی وسیع تر اقتصادی ترجیحات کا ذکر کیا جن کا مقصد کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا، برآمدات پر مبنی نمو، صنعتی توسیع کو فروغ دینا اور معیشت کے اہم شعبوں میں مسابقت بڑھانا ہے۔ انہوں نے اقتصادی دستاویز سازی کو مضبوط بنانے، ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کو فروغ دینے اور ٹیکس دہندگان و کاروباری اداروں کی سہولت کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار کو آسان بنانے کے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ گفتگو کا مرکزی نکتہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے تناظر میں مختلف تجاویز اور ٹیکس سے متعلق سفارشات تھیں جن میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز، برآمدی سہولت سکیموں، صنعتی خام مال اور ریگولیٹری طریقہ کار سے متعلق امور شامل تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ایک قابل پیش گوئی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس نظام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے ساتھ ہی موثر ریونیو اکٹھا کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے اہداف بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے وفد نے صنعتی خام مال، مشینری کی درآمد، برآمدی مسابقت، ریفنڈز کی تیز تر ادائیگی، ٹیکس طریقہ کار میں سادگی اور تعمیل کے اخراجات میں کمی سے متعلق شعبہ جاتی تجاویز پیش کیں۔ شرکا نے ٹیکسٹائل، سٹیل، خوردنی تیل، پلاسٹکس، کیمیکلز اور کاٹن جننگ سمیت مختلف صنعتی شعبوں کے حوالے سے بھی آراء کا تبادلہ کیا۔تجارت میں سہولت، مارکیٹ مسابقت، دستاویزی معیشت، کسٹمز انتظامیہ اور ریگولیٹری ہم آہنگی سے متعلق وسیع تر امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ شرکا نے شفافیت میں بہتری، نفاذی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور دستاویزی معیشت میں کام کرنے والے جائز کاروباروں کے لیے یکساں مواقع یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے ٹیکس انتظامیہ اور ریونیو وصولی کے نظام میں ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات پر حکومت کی توجہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ آٹومیشن، ڈیجیٹل انوائسنگ، ڈیٹا انٹیگریشن اور طریقہ کار میں سادگی سے متعلق اقدامات جاری ہیں تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو، غیر ضروری انسانی مداخلت کم ہو، تعمیل بہتر ہو اور حقیقی کاروباروں کو سہولت ملے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اور ڈیٹا پر مبنی گورننس حکومت کے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کے مرکزی ستون ہیں۔شرکا نے برآمدی سہولت کاری کے طریقہ کار، صنعتی پیداواری صلاحیت اور علاقائی و بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں ویلیو ایڈڈ شعبوں کی حمایت، برآمدی سکیموں کے بروقت نفاذ، خام مال اور پیداواری وسائل تک بہتر رسائی اور طویل المدتی صنعتی ترقی و برآمدی تنوع کے فروغ جیسے امور بھی شامل تھے۔اجلاس میں پالیسی کے تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان باقاعدہ مشاورت کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکا نے عملدرآمد سے متعلق امور، انتظامی کارکردگی اور مختلف شعبوں میں کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی سہولت سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ نے ایف پی سی سی آئی وفد کی تجاویز اور سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی آراء کو بجٹ سازی کے جاری عمل میں غور سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے کے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت پالیسی سازی کا اہم حصہ رہے گی تاکہ اقتصادی ترقی، برآمدات، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور صنعت سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان مسلسل تعاون اقتصادی اصلاحات، دستاویزی معیشت کے فروغ، مسابقت میں بہتری اور برآمدی بنیادوں پر ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

وفد میں سینئر نائب صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں، نائب صدور امان پریچا، آصف سخی، ذکی اعجاز، طارق جدون،شام لال منگلانی (چیئرمین کاٹن جنرز ایسوسی ایشن)، عمر ریحان (چیئرمین پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)،غضنفربلور (سابق صدر ایف پی سی سی آئی، میاں زاہد حسین (چیئرمین ایف پی سی سی آئی الیسی ایڈوائزری بورڈ)،کریم عزیز ملک (انچارج ایف پی سی سی آئی کیپیٹل آفس)،ملک سہیل حسین (چیئرمین کوآرڈینیشن کیپیٹل آفس)،طارق ارشد (چیئرمین سٹیل مرچنٹ ایسوسی ایشن) اور ممبرایف پی سی سی آئی دانش سلیم شامل تھے۔