بنگلہ دیش سول سروسز کے انتظامی کیڈر سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران پر مشتمل 12 رکنی وفد کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈکوارٹرز کا دورہ

بنگلہ دیش سول سروسز کے انتظامی کیڈر سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران پر مشتمل 12 رکنی وفد کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈکوارٹرز کا دورہ

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):چیئرمین ایف بی آرراشدمحمودلنگڑیال نے کہاہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سول سرونٹس کے دوروں کے تبادلہ سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، گورننس کے تجربات کے تبادلے اور دونوں دوست ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو یہاں بنگلہ دیش سول سروسز کے انتظامی کیڈر سے تعلق رکھنے والے سینئر افسران پر مشتمل 12 رکنی وفد کے پاکستان کے 21 روزہ مطالعاتی دورے کے سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈکوارٹرز کے دورہ کے دوران کہی ۔ ایف بی آر کا یہ دورہ ”پالیسی انوویشن“ کے موضوعاتی جزو کا حصہ تھا جو اس پروگرام کے دوران وفد کے زیرِ مطالعہ تین بنیادی شعبوں میں شامل ہے جبکہ دیگر دو شعبے ”گورنمنٹ سسٹم“ اور ”ایجوکیشن لیڈرشپ“ ہیں۔ وفد کے ہمراہ سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ اور اکیڈمی کے فیکلٹی اراکین بھی موجود تھے۔

چیئرمین ایف بی آر نے ایف بی آر پہنچنے پر وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تاریخی روابط اور انتظامی و گورننس کے مشترکہ ورثے کے حامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے سول سرونٹس کے دوروں کے تبادلہ سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، گورننس کے تجربات کے تبادلے اور دونوں دوست ممالک کے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کریں گے۔ انہوں نے وفد کو ایف بی آر میں شفافیت، کارکردگی اور ادارہ جاتی استعداد بہتر بنانے کے لئے متعارف کرائی گئی اہم اصلاحات اور بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ چیئرمین نے شرکاء کو کرپشن کے خاتمے، تبادلوں اور تقرریوں میں اقربا ء پروری کے کلچر کے سدباب اور موزوں افراد کو اہم ذمہ داری دینے کے لئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بتایا۔ چیئرمین ایف بی آر نے افسران کی اے سے ڈی تک درجہ بندی کی بنیاد پر نافذ کئے جانے والے جدید پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئے نظام کے تحت اہم عہدوں پر تعینات 90 فیصد سے زائد افسران کیٹیگری اے اور بی سے تعینات کئے گئے ہیں۔پاکستان کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو سروس کے سینئر افسران نے ایف بی آر ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفد کوپوائنٹ آف سیل انٹیگریشن، کمپلائنس رسک مینجمنٹ، افسران کی صوابدید ختم کرنے کے لئے فیس لیس کسٹمز سسٹم، کارکردگی سے منسلک مارکیٹ مسابقتی تنخواہوں کے نفاذ اور مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی پیداواری نگرانی کے نظام سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں ممبرآئی آر آپریشنز، ممبر کسٹمز آپریشنز اور ممبر ایڈمنسٹریشن نے بھی شرکت کی۔بنگلہ دیشی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری سلمیٰ صدیقہ مہتاب کر رہی تھیں جبکہ اس میں سینئر جوائنٹ سیکرٹریز محمد مصطفیٰ جمال حیدر، ابو ریحان میاں، فیروز احمد، محمد منیرالاسلام، توفیق امام، ریحان اختر، اے ایف ایم احتشام الحق، محمد شمس الحق، محمد عبدالسلام، ڈاکٹر ظل الرحمن اور ضیاء احمد سمن شامل تھے۔

وفدکے اراکین نے ایف بی آر کے انتظامی ڈھانچہ، ادارہ جاتی استعداد اور اصلاحات پر مبنی اقدامات کو سراہا۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ اس دورے سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات بنگلہ دیش میں بھی اسی نوعیت کی اصلاحات اور جدت متعارف کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی نے وفد کی میزبانی اور ادارے کے عملی و اصلاحاتی پہلوؤں سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنے پر چیئرمین ایف بی آر کا شکریہ ادا کیا۔

مزید خبریں