"قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ طلبہ کو منشیات سے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔”
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس،تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور
اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ طلبہ کو منشیات سے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔
قائمہ کمیٹی کا 25واں اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں قائم مقام چیئرمین مہتاب اکبر راشدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام صرف طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، انسداد منشیات فورس، پولیس اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ کمیٹی نے آگاہی مہم، موثر نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ اجلاس کو نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر مختص 20 ہزار مربع فٹ اراضی میں سے تقریباً 4 ہزار مربع فٹ زمین واپس حاصل کر لی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ متعلقہ ادارے کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو سعودی عرب میں روزگار کے تقاضوں کے مطابق فنی تربیت فراہم کرنا ہے۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ معاہدے کی شرائط کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت، جوابدہی اور عوامی مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کی 36 یونین کونسلوں میں گھر گھر اندراج مہم کے دوران تقریباً 26 ہزار سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 18 ہزار بچوں کو غیر رسمی تعلیمی مراکز میں داخل کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فیض آباد کے قریب جوگیہ بستی میں تین خیمہ سکول بھی قائم کئے گئے ہیں۔ کمیٹی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے غیر رسمی تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کو باقاعدہ تعلیمی نظام میں منتقل کرنے کے لئے واضح حکمت عملی اور موثر نگرانی کا نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ میں یومیہ اجرت پر کوئی ملازم کام نہیں کر رہا بلکہ پروگرام سے وابستہ افراد رضاکارانہ بنیادوں پر خدمات انجام دیتے ہیں اور انہیں وزارت خزانہ کے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق 15 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے این سی ایل ای ایکس نرسنگ تربیتی پروگرام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نفاذ میں شفافیت اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ پروگرام کے نفاذ کے لئے ادارے کا انتخاب کھلے اور مسابقتی طریقہ کار کے بغیر کیوں کیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ عوامی وسائل سے چلنے والے ایسے تمام منصوبے میرٹ، شفافیت اور مساوی نمائندگی کے اصولوں کے مطابق نافذ کئے جائیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ وہ پروگرام کے مختلف پہلوئوں پر اپنی پیشہ ورانہ رائے دے سکے۔اس موقع پر نیوٹیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ این سی ایل ای ایکس نرسنگ تربیتی پروگرام پاکستانی نرسوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت بڑھانے اور انہیں بیرون ملک روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے شروع کیا گیا ہے جس سے ہنر مند افرادی قوت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔اجلاس کو ہائر ایجوکیشن کمیشن نے آگاہ کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی اور ادارہ جاتی مسائل کا جائزہ لینے کے لئے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے یونیورسٹی کے معاملات کے حل میں مسلسل تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونا تشویشناک ہے۔ کمیٹی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ نئی کمیٹی دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرے، جامع سفارشات اور عملدرآمد کا واضح لائحہ عمل پیش کرے اور یونیورسٹی کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے فوری عملی اقدامات کرے۔اجلاس میں قومی اسمبلی کے متعدد ارکان، وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔









