بوشہر پلانٹ کا معاملہ روس اورایران کے علاوہ کسی اور سے متعلق نہیں ،روسی وزیر خارجہ

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے تصدیق کی ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں اور اس کے آپریشن سے متعلق امور روس اور ایران کے علاوہ کسی دوسرے فریق سے تعلق نہیں رکھتے۔

اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاؤروف نے تصدیق کی ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں اور اس کے آپریشن سے متعلق امور روس اور ایران کے علاوہ کسی دوسرے فریق سے تعلق نہیں رکھتے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز استوائی گنی کے وزیرِ خارجہ سیمیون اویونو ایسونو انگوی کے ساتھ بات چیت کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ جہاں تک بوشہر پلانٹ کا تعلق ہے، تو یہ تنصیب کسی قسم کی پابندیوں کے ماتحت نہیں ہے۔ اسے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے 2015 کے معاہدے سے بھی مستثنیٰ کیا گیا تھا اس لیے یہ معاملہ روس اور ایران کے علاوہ کسی اور سے متعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات میں مداخلت کی کوشش نہیں کر رہا۔ انہوں نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے امید کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ جنوبی ایران میں واقع بوشہر پلانٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے جوہری پلانٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ روس کی روساٹوم کمپنی کے تعاون سے چلایا جاتا ہے جو جوہری ایندھن کی فراہمی اور عملے کی تربیت کی ذمہ دار ہے۔ دونوں ممالک نے دو اضافی ری ایکٹرز "بوشہر 2 اور 3” کی تعمیر کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔ یہ تنصیب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں بھی ہے۔