بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تجارتی تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں
تجارتی تیل کے ذخائر چند ہفتوں میں ختم ہو جائیں گے، سربراہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی

مزید خبریں
ویانا۔19مئی (اے پی پی):بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تجارتی تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جو صرف چند ہفتوں کے لیے کافی ہوں گے۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نےپیرس میں جی 7 اجلاس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ تزویراتی ذخائر سے روزانہ 25 لاکھ بیرل تیل مارکیٹ میں لایا جا رہا ہے، لیکن یہ ذخائر محدود ہیں۔ شمالی نصف کرہ میں بہار کی کاشت کاری اور گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز سے ڈیزل، کھاد اور پٹرول کی طلب بڑھے گی، جس سے یہ ذخائر مزید تیزی سے ختم ہوں گے۔ انہوں نے مارکیٹ کی حقیقی صورت حال اور فیوچرز مارکیٹ کے درمیان تصوراتی فرق کی طرف بھی اشارہ کیا۔فاتح بیرول کے مطابق فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے تیل کی مارکیٹ میں بڑا اضافہ تھا اور تجارتی ذخائر بہت زیادہ تھے، لیکن جنگ نے صورت حال کو یکسر بدل دیا۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ مارچ اور اپریل کے دوران عالمی ذخائر میں ریکارڈ 24.6 کروڑ بیرل کی کمی آئی۔ اس کے سبب 32 رکن ممالک پر مشتمل ایجنسی نے مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے تاریخ میں پہلی بار تزویراتی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل نکالنے کی منظوری دی، جس میں سے 8 مئی تک 16.4 کروڑ بیرل نکالا جا چکا ہے۔ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ جنگ کی وجہ سے 2026 کے دوران عالمی سپلائی میں روزانہ 39 لاکھ بیرل کی کمی آئے گی، جبکہ پہلے یہ توقع 15 لاکھ بیرل تھی۔ اس صورت حال کے باعث عالمی سپلائی مجموعی طلب سے کم رہے گی۔








