چین کی زیرو ٹیرف سہولت افریقی برآمدات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اقوام متحدہ

چین میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآڈینیٹر اسٹیفن جیکسن نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے 53 افریقی ممالک کی درآمدات پر زیرو ٹیرف سہولت افریقی معیشتوں کو نہ صرف زیادہ بلکہ بہتر برآمدات کے قابل بنا سکتی ہے

اقوام متحدہ ۔19مئی (اے پی پی):چین میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآڈینیٹر اسٹیفن جیکسن نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے 53 افریقی ممالک کی درآمدات پر زیرو ٹیرف سہولت افریقی معیشتوں کو نہ صرف زیادہ بلکہ بہتر برآمدات کے قابل بنا سکتی ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ پراسیسنگ، ذخیرہ، ٹرانسپورٹ اور معیار بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری بھی کی جائے۔بیجنگ میں منعقدہ تجارتی و سرمایہ کاری سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیرف فری رسائی کا سب سے بڑا ترقیاتی فائدہ اس وقت حاصل ہوگا جب افریقی مصنوعات ویلیو چین میں مزید آگے بڑھ سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ موقع صرف زیادہ برآمدات کا نہیں بلکہ بہتر برآمدات کا ہے۔چائنا اکنامک نیٹ کی جانب سے میڈیا گفتگو کے دوران پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسٹیفن جیکسن نے کہا کہ ٹیرف فری رسائی کے بعد مقامی سطح پر صنعتی استعداد بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق افریقی ممالک میں صنعت کاری، معیار، پیداواری صلاحیت اور بین الاقوامی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے زرعی شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ افریقی کسانوں کی پیداوار کا بڑا حصہ کھیت سے بندرگاہ تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ مناسب اسٹوریج اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔اسٹیفن جیکسن نے کہا کہ ذخیرہ، نقل و حمل، پراسیسنگ اور معیار میں بہتری سے افریقی مصنوعات عالمی تجارت میں زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں اور افریقی معیشتیں زیادہ معاشی فائدہ اپنے پاس رکھ سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ تجارتی سہولتوں کو حقیقی ترقی میں بدلنے کے لیے منڈی تک رسائی، سرمایہ کاری، معیار، لاجسٹکس اور استعداد کار میں بہتری سمیت کئی شعبوں میں تعاون ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے نقطہ نظر سے تجارت پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے اور ترقی پذیر ممالک کو مساوی بنیادوں پر عالمی تجارت سے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔