پینٹاگان نے کینیڈا کے ساتھ مشترکہ دفاعی کونسل میں اپنی شرکت معطل کر دی

امریکی وزارتِ دفاع "پینٹاگان” نے کینیڈا کے ساتھ مستقل مشترکہ دفاعی کونسل میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق یہ ایک ایسا قدم ہے جو نیٹو کے اندر فوجی اخراجات اور دفاعی بوجھ کی تقسیم کے حوالے سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتا

ورجینیا۔19مئی (اے پی پی):امریکی وزارتِ دفاع "پینٹاگان” نے کینیڈا کے ساتھ مستقل مشترکہ دفاعی کونسل میں اپنی شرکت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔العربیہ نیوز کے مطابق یہ ایک ایسا قدم ہے جو نیٹو کے اندر فوجی اخراجات اور دفاعی بوجھ کی تقسیم کے حوالے سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔امریکی نائب وزیرِ دفاع ایلبرج کولبی نے کینیڈا پر اپنی "فوجی ذمے داریوں کو پورا کرنے میں ناکام” رہنے کا الزام لگاتے ہوئے مشترکہ دفاعی کونسل سے متعلق اس تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے قیام کو 85 سال ہو چکے ہیں۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا اور نیٹو کے دیگر ممالک پر امریکی تحفظ پر حد سے زیادہ انحصار اور اس کے مقابلے میں کم دفاعی اخراجات کی وجہ سے مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔

"مستقل مشترکہ دفاعی کونسل” امریکا اور کینیڈا کے درمیان فوجی تعاون کے قدیم ترین ڈھانچوں میں سے ایک ہے، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ فوجی اور سویلین قیادت شامل ہوتی ہے۔اس کونسل نے شمالی امریکا کے مشترکہ دفاعی امور میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ان اداروں میں سے ایک تھی جس نے "نوراڈ” (نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ) کے قیام کی سفارش کی تھی۔ یہ دونوں ممالک پر ہونے والے کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرات کی نگرانی کرنے والی مشترکہ فوجی کمانڈ ہے۔”نوراڈ” کا قیام سرد جنگ کے دوران امریکا اور سویت یونین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے وقت عمل میں آیا تھا اور یہ اب بھی واشنگٹن اور اٹاوا کے درمیان دفاعی ہم آہنگی کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔