مہدی مسعود پاکستان کے ان مایہ ناز اور ممتاز سفارتکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی لگن اور اخلاص کے ساتھ بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کی۔برسلز میں پاکستان کے سفارتخانے کی سیریز آرکائیوز سے کے مطابق مہدی مسعود جیسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اتنی وسیع خدمات اور غیر متزلزل عزم کا احاطہ کرتے ہیں۔
مہدی مسعود کی بطور سفارتکار غیر معمولی لگن اور اخلاص کے ساتھ ملک کی نمائندگی

مزید خبریں
برسلز۔20مئی (اے پی پی):مہدی مسعود پاکستان کے ان مایہ ناز اور ممتاز سفارتکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غیر معمولی لگن اور اخلاص کے ساتھ بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کی۔برسلز میں پاکستان کے سفارتخانے کی سیریز آرکائیوز سے کے مطابق مہدی مسعود جیسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اتنی وسیع خدمات اور غیر متزلزل عزم کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی ذہین اور مایہ ناز سکالر تھے جنہوں نے 1952 میں سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس ) کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کے بعد انہوں نے پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی اور 37 سال تک نہایت کامیابی اور وقار کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کی۔اپنے شاندار سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے بیلجئیم، لکسمبرگ، جرمنی، کویت اور اردن میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دیں جبکہ واشنگٹن، تہران، کولمبو، نئی دہلی اور اقوامِ متحدہ میں بھی اہم ترین عہدوں پر فائز رہے۔
وہ ان چند منفرد پاکستانی سفارتکاروں میں سے تھے جنہیں بھارت میں متعدد مشنز (بشمول نئی دہلی اور کلکتہ) میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔اکتوبر 1984 سے مارچ 1988 تک بیلجئیم، لکسمبرگ اور نیٹو (NATO) میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے مہدی مسعود نے ایک ایسے وقت میں یورپ کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مضبوط کیا جب دنیا بڑے جغرافیائی و سیاسی تغیرات اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات سے گزر رہی تھی۔برسلز میں ان کے دورِ سفارت کا سب سے نمایاں اور یادگار موقع اپریل 1987 میں پاکستان کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کا دورہ تھا۔ اس انتہائی اہم دورے کے دوران پاکستانی وفد نے یورپی اکنامک کمیونٹی (ای ای سی ) کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور یورپی کمیشن کے صدر جیکس ڈیلرز کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کئے جس سے پاکستان اور یورپ کے تعلقات کو مزید استحکام ملا۔سفارتکاری سے ہٹ کر مہدی مسعود ایک دانشور اور صاحبِ علم شخصیت بھی تھے۔
انہوں نے امورِ خارجہ اور عوامی پالیسی پر متعدد مضامین کے ذریعے قومی بیانیے اور مکالمے میں گراں قدر حصہ لیا۔ انہوں نے مختلف تعلیمی اور سٹریٹجک اداروں میں لیکچرز دیئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تھنک ٹینکس اور مشاورتی اداروں کے ذریعے پاکستان کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔مہدی مسعود کا تعلق سفارتکاروں کی اس نسل سے تھا جو عوامی خدمت کو زندگی بھر کی ذمہ داری سمجھتی تھی۔ ان کا شاندار کیریئر، علمی خدمات اور پاکستان کے لئے ان کا غیر متزلزل عزم، سفارتکاروں اور سرکاری ملازمین کی آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
کچھ کیریئر ایسے ہوتے ہیں جن کی پیمائش صرف ان عہدوں سے کی جاتی ہے جو انہوں نے سنبھالے جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے پیچھے چھوڑے گئے انمٹ نقوش اور دیرپا اثرات سے پہچانے جاتے ہیں۔ مہدی مسعود کی وراثت اور شخصیت ان دونوں خوبیوں کا حسین امتزاج تھی۔واضح رہے کہ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے اور سفارتخانے میں خدمات سر انجام دینے والے سفرا کیلئے "آرکائیوز سے” کے نام سے ایک سیریز شروع کی ہے۔ سیریز پاکستان کے بھرپور سفارتی ورثے اور یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کے ساتھ شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔








