نیٹو میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی دیگر رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گی ،سیکرٹری جنرل

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے یورپ سے 5000 فوجی واپس بلانے کا فیصلہ دیگر رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔

برسلز۔21مئی (اے پی پی):نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے یورپ سے 5000 فوجی واپس بلانے کا فیصلہ دیگر رکن ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 4,000 سے 5,000 اہل کاروں سے متعلق اس اعلان کا تعلق دراصل باری باری تعینات ہونے والی (روٹیشنل) افواج سے ہے، جو نیٹو کے دفاعی منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔

مارک روٹے نے کہا کہ یہ معمول کی اور متوقع کارروائی ہے ۔ واضح رہے کہ امریکا نے رواں ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز کے درمیان ایران میں جنگ کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلاف کے بعد جرمنی سے 5000 فوجی واپس بلانے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ اس اچانک اقدام اور اس کے بعد پیدا ہونے والی اس الجھن نے کہ آیا فوجیوں کی تعداد میں کمی جرمنی کے دفاع کو متاثر کرے گی یا پولینڈ کو، یورپ میں تشویش پیدا کر دی ہے تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے یورپی ممالک کو پہلے ہی مطلع کر دیا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں دیگر خطرات پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنی افواج کو واپس بلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ اپنی جنگ پر یورپ کے رد عمل پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انہوں نے بارہا نیٹو سے الگ ہونے کی دھمکی دی ہے۔ پینٹاگان نے منگل کو یورپ میں تعینات امریکی افواج کے بریگیڈز کی تعداد چار سے کم کر کے تین کرنے کا اعلان کیا تاکہ یہ تعیناتی 2021 کی سطح پر واپس آ جائے۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا تھا کہ پولینڈ میں 4000 فوجیوں کی تعیناتی کو مؤخر کیا گیا ہے، منسوخ نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کو اپنے طور پر خود انحصاری کرنی چاہیے۔نیٹو کے یورپی ارکان رواں ہفتے سویڈن میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے وضاحتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔