پاکستان نے سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں جزوی توسیع کی تجویز مسترد کر دی

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مستقل نشستوں میں جزوی توسیع کی تجویز مسترد کر دی۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے

اقوام متحدہ ۔21مئی (اے پی پی):پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے مستقل نشستوں میں جزوی توسیع کی تجویز مسترد کر دی۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی بھی مؤثر اور پائیدار اصلاحات کے لیے جامع پیکج کی بنیاد پر پیش رفت ضروری ہے، نہ کہ جزوی اور ٹکڑوں میں تبدیلیوں کے ذریعے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب 15 رکنی سلامتی کونسل کی تنظیمِ نو سے متعلق تعطل کا شکار بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کا اجلاس منگل کو دوبارہ شروع ہوا۔سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ اور مؤثر بنانے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اصلاحات کے عمل میں پانچ باہم مربوط نکات پر اختلافات کو ختم کرتے ہوئے رکن ممالک کے درمیان وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ان پانچ اہم نکات میں سلامتی کونسل کے حجم میں اضافہ، رکنیت کی نئی اقسام کا قیام، منصفانہ علاقائی نمائندگی، ویٹو اختیار میں توسیع یا اس کی تحدید، اور کونسل کے طریقۂ کار میں شفافیت شامل ہیں۔پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ “یونائٹنگ فار کنسینسس” (UfC) گروپ کے اہم رکن کی حیثیت سے پاکستان سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی حمایت نہیں کرتا، خواہ انہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہو یا نہ ہو۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کا عمل اس وقت تعطل کا شکار ہے کیونکہ جی-4 ممالک، جن میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان شامل ہیں، مستقل نشستوں کے حصول کے لیے مہم چلا رہے ہیں، جبکہ یو ایف سی گروپ مستقل رکنیت میں کسی بھی توسیع کی مخالفت کرتا ہے۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے ’’ اختیار کے نئے مراکز‘‘ وجود میں آئیں گے۔متبادل تجویز کے طور پر یو ایف سی گروپ نے ایسی نئی رکنیت کی تجویز دی ہے جو مستقل نہ ہو، تاہم اس کی مدت نسبتاً طویل ہو اور دوبارہ انتخاب کی گنجائش بھی موجود ہو۔اس وقت سلامتی کونسل پانچ مستقل اراکین ، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ ، جبکہ 10 غیر مستقل اراکین پر مشتمل ہے، جنہیں دو سالہ مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔مستقل نشستوں کے امیدوار ممالک کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اصلاح شدہ سلامتی کونسل کی حیثیت چند ممالک کی مستقل حیثیت سے نہیں بلکہ وسیع تر رکنیت کے اعتماد اور جوابدہی سے وابستہ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک دنیا میں صرف چند ممالک ہی نہیں بلکہ کئی درمیانے درجے کی طاقتیں اور چھوٹے ممالک بھی ہیں جو عالمی امن و سلامتی کے لیے نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان نے منتخب اراکین کی تعداد میں اضافے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ انتخابات سے جوابدہی ممکن ہوتی ہے اور جوابدہی ہی ادارے کی قانونی حیثیت کو مضبوط بناتی ہے۔ویٹو اختیار کے حوالے سے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ یہ اختیار سلامتی کونسل کی مفلوجی اور ساکھ میں کمی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کی اکثریت اس غیر جمہوری اختیار اور اس کے غلط استعمال کے خلاف ہے اور اس میں سخت پابندیوں یا مکمل خاتمے کی حامی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ویٹو کا اختیار کسی نئے رکن کو نہیں دیا جانا چاہیے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ علاقائی نمائندگی کو بھی متوازن اور منصفانہ انداز میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے افریقی ممالک کے اس مؤقف کی حمایت کا اعادہ کیا جس کے تحت تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ متفقہ افریقی مؤقف مستقل نشستوں کے دیگر امیدوار ممالک کی قومی خواہشات سے یکسر مختلف ہے۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، عرب گروپ، چھوٹے ممالک، چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک (SIDS) اور لاطینی امریکا کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں بھی دور کی جانی چاہئیں۔سلامتی کونسل کے حجم اور طریقۂ کار سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توسیع بامعنی ہونی چاہیے اور ہر نئی نشست وسیع تر رکنیت کی نمائندگی کو مضبوط کرے۔ ان کے مطابق کسی ایک ملک کو مستقل بنیادوں پر نشست دینا کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے طریقۂ کار کو مزید شفاف، جامع اور جوابدہ بنانے، ذیلی اداروں کی مؤثر کارکردگی اور غیر رکن ممالک کے ساتھ بہتر رابطے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ اصلاحات کا عمل تقسیم کے بجائے اتحاد کا باعث بننا چاہیے، جبکہ بین الحکومتی مذاکرات ہی اس مقصد کے حصول کا واحد جائز اور رکن ممالک کی قیادت میں چلنے والا پلیٹ فارم ہیں۔

مزید خبریں