اقوامِ متحدہ نے پاکستان کی پیش کردہ بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی پیش کردہ بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

اقوام متحدہ ۔21مئی (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی پیش کردہ بین المذاہب ہم آہنگی سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کے روز پاکستان اور فلپائن کی جانب سے پیش کردہ ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، جس میں عالمی سطح پر امن، عدم تشدد، بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔درجنوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی اس قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، نفرت انگیز تقاریر، تشدد اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے شمولیت اور اتحاد کو فروغ دیں۔قرارداد میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تمام ممالک اقوامِ متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے، فلپائن اور دیگر شریک ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امن کی ایسی ثقافت کو فروغ دینا ناگزیر ہے جو تنوع، شمولیت، بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ایسے سماجی ڈھانچوں اور تعصبات کو مسترد کرے جو افراد، معاشروں، برادریوں اور ریاستوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود ان مشترکہ مقاصد کے مکمل حصول کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔پاکستانی مندوب نے اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ جنگیں انسانوں کے ذہنوں میں جنم لیتی ہیں، اس لیے امن کے دفاع کی بنیادیں بھی انسانوں کے ذہنوں میں ہی تعمیر کی جانی چاہئیں۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ قرارداد ایک تکنیکی توسیع ہے، جس کے ذریعے گزشتہ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد کے بنیادی نکات کو برقرار رکھا گیا ہے۔

قرارداد کے متن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کے ساتھ خصوصی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں، لہٰذا اس پر بعض جائز حدود عائد کی جا سکتی ہیں۔قرارداد میں مذہبی علامات اور شعائر کے احترام کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا گیا، جبکہ یہ اعادہ کیا گیا کہ عدم برداشت کے ردِعمل میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی ایسے تشدد کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑا جانا چاہیے۔اگرچہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی، تاہم چند ممالک نے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا، جن میں بھارت خاص طور پر نمایاں رہا۔بھارت کے بے بنیاد اور غیر ضروری اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی مندوب ذوالفقار علی نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ بھارت نے آج عالمی برادری کی جانب سے اس اہم قرارداد کی متفقہ منظوری کے ذریعے دیے گئے مثبت پیغام کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

کرتارپور راہداری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان مشن کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی نے کہا کہ اس راہداری نے دنیا بھر سے سکھ یاتریوں، خصوصاً بھارت سے آنے والے ہزاروں افراد، کو گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی محفوظ اور باوقار زیارت کی سہولت فراہم کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 2024 میں بھارت کے ساتھ کرتارپور معاہدے میں مزید پانچ برس کی توسیع کا اعلان کیا، جو مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا مظہر ہے۔ اس اقدام کو عالمی سکھ برادری، بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی جانب سے بھی سراہا گیا، جنہوں نے اسے’’ امید کی راہداری ‘‘ قرار دیا تھا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت دنیا کے سب سے زیادہ عدم برداشت رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں مسلمان سب سے بڑی اقلیتی برادری ہونے کے باوجود نفرت انگیز جرائم، امتیازی سلوک، گاؤ رکھشا کے نام پر تشدد، عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور سماجی علیحدگی جیسے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی حکومت اقلیتوں کے خلاف مظالم کی سرپرستی بند کرے اور ایسے گھناؤنے اقدامات میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔