اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے
سلامتی کونسل کو امریکا کی دھمکیوں کے سامنے خاموش نہیں رہنا چاہیے،اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔21مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔بی بی سی نیوز کے مطابق امیر سعید نے امریکی صدر کی بار بار دھمکیوں کے سامنے کونسل کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بمباری کرنے اور ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں لوٹانے کی واضح دھمکی دیتے ہیں اور ملک کی توانائی، اقتصادی اور صنعتی انفرسٹرکچر کی تباہی، ایرانی جوہری سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے یہاں تک کہ ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کے بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ ایران کے نقطہ نظر سے یہ خاموشی ایک ’خطرناک عمل‘ کو جنم دے سکتی ہے جسے انھوں نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی جانب سے طاقت اور جارحیت کے خطرے کو معمول بنانے کا نام دیا۔








