پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کےلئے حکومت، اکیڈیمیا، طبی ماہرین اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا،وزیر مملکت برائے قومی صحت

وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت، اکیڈیمیا، طبی ماہرین اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت سنگین اور تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے حکومت، اکیڈیمیا، طبی ماہرین اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ذہنی صحت، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے معاشرتی اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ڈیجیٹل انوویشنز اور مصنوعی ذہانت نے معاشرے میں اہم مقام حاصل کیا، تاہم اس کے ساتھ ذہنی صحت کے مسائل میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال کا ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس اور ذیابیطس جیسے امراض کا شکار ہیں جبکہ کروڑوں افراد ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ دیہی علاقوں میں ذہنی بیماریوں سے متعلق معاشرتی بدنامی کے خوف کے باعث لوگ اپنے مسائل ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کو بھی دیگر جسمانی بیماریوں کی طرح ایک طبی مسئلہ سمجھا جائے۔ اس ضمن میں حکومت کی موثر پالیسی سازی، تعلیمی اداروں کا کردار اور نوجوانوں میں آگاہی انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں بھی پاکستانی معاشرے میں ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ مقررین کے مطابق معاشرتی روابط میں کمی، خاندانوں سے دوری اور ڈیجیٹل ٹولز پر بڑھتا انحصار نوجوان نسل میں ہمدردی، برداشت اور سماجی روابط کو متاثر کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات، مثبت معاشرتی رویوں اور متوازن ڈیجیٹل استعمال کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مقررین نے سیمپوزیم کے منتظمین ڈاکٹر شاہد الٰہی اور ڈاکٹر عروہ مسعود کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ یہ موضوع ہماری روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے اور اس پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک خودمختار ادارے ’’نیشنل ہب آف ایکسی لینس فار مینٹل ہیلتھ ‘‘کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے لئے قانون سازی رواں سال مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مجوزہ ادارہ اسلام آباد میں قائم کیا جائے گا اور اس میں اکیڈیمیا، ماہرینِ نفسیات، سائیکاٹرسٹس، طبی ماہرین اور دیگر پروفیشنلز شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ذہنی صحت سے متعلق تعلیم، تربیت، پریکٹس اور ریگولیشن کے نظام کو بہتر بنانے کےلئے کام کرے گا، اس کے تحت نرسز، بنیادی مراکز صحت کے عملے اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کو ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کےلئے خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ ابتدائی سطح پر مریضوں کو موثر معاونت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدام پاکستان میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لئے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔