وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ کانفرنس کے موقع پر ایران کے وزیر صحت محمدرضا ظفرقندی سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایران میں حالیہ واقعات کے دوران بچوں اور دیگر شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی جنیوا میں ایران کے وزیر صحت سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جنیوا میں ورلڈ ہیلتھ کانفرنس کے موقع پر ایران کے وزیر صحت محمدرضا ظفرقندی سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ایران میں حالیہ واقعات کے دوران بچوں اور دیگر شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پرامن حل کے لئے تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستان جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے ۔ملاقات میں جنیوا میں تعینات ایرانی سفیر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران دوطرفہ صحت تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ایرانی وزیر صحت نے پاکستان کی قیادت خصوصاً وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی خطے میں امن کے قیام کے لئے مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایران کے متعدد ہسپتالوں، صحت کے اداروں اور اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ پاکستان ویکسین سازی اور فارماسیوٹیکل صنعت کو مضبوط بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ اس وقت پاکستان میں تقریباً 90 فیصد خام مال چین سے درآمد کیا جاتا ہے تاہم ملک اپنی مقامی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے۔دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔








